جب تک فوج کے کنٹرول کا 100 فیصد یقین نہ ہوجائے لبنان میں رہیں گے،اسرائیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 مارچ2025ء)اسرائیل کے ایک سفارتی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان کے پانچ مقامات پر اس وقت تک موجود رہے گی جب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو جاتی کہ لبنانی فوج سرحدوں کو کنٹرول کرنے کی 100 فیصد صلاحیت رکھتی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ذرائع نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کو مسلح کرنے اور اس کو رقوم کی منتقلی اور متعلقہ حکام کو ہتھیاروں کی فراہمی کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
ہم صرف نگرانی کے کردار سے مطمئن نہیں ہوں گے۔(جاری ہے)
ذریعہ نے کہا کہ جنوبی لبنان میں 5 پوائنٹس پر اسرائیلی افواج کی موجودگی لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں مانیٹرنگ میکانزم کے مطابق ہے۔ یہ جنگ اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ گزشتہ موسم خزاں میں لڑی تھی۔ایک اور تناظر میں سفارتی ذریعے نے کہا کہ اسرائیل حقیقی اور عملی طور پر اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایرانی محور کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسرائیل 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد فوجی کارروائی کو حل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ذریعے نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہ اسرائیل رہا ہے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز
تہران / واشنگٹن(آئی پی ایس )امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصا آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دور واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرغیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی اگلی خبرپاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر اسکائی 47 قراقرم ون کا افتتاح کر دیا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم