بھارتی ریاستی مدھیہ پردیش میں قتل کے ایک کیس اور 18 ماہ مقتولہ کی زندہ واپسی نے پولیس کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔

یہ واقعہ فلمی کہانی سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے، جس میں 2023 میں قتل کے ایک واقعے میں مردہ سمجھی جانے والی 35 سالہ خاتون گھر واپس آگئی ہیں، جس نے اُن کے خاندان اور دوستوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

مدھیہ پردیش کی رہائشی للیتا بائی کو اُن کے خاندان نے مردہ سمجھ لیا تھا اور اُن کی آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی تھیں۔ للیتا کے قتل کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جو کہ اب بھی جیل میں ہیں۔ 

بھارتی میڈیا کے مطابق قتل کے اس کیس میں چند دن پہلے ایک ایسا چکرا دینے والا موڑ آیا جب للیتا بائی زندہ حالت میں اپنے گاؤں، مندسور ضلع میں واپس آگئیں۔ للیتا کے والد نے فوراً انہیں گاندھی ساگر پولیس اسٹیشن لے جاکر واپسی کی اطلاع دی۔

اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس افسرِ ترون بھردواج نے بتایا کہ للیتا خود ہی گھر سے نکل گئی تھی۔

للیتا بائی نے پولیس کو بتایا کہ شاہ رخ نامی ایک شخص اسے بھانپورہ لے گیا تھا۔ جہاں اسے 5 لاکھ روپے کے عوض دوسرے شخص کو فروخت کردیا گیا۔ وہ شخص اسے راجستھان کے ایک کوٹھے پر لے گیا، جہاں وہ 18 ماہ تک رہیں۔

للیتا نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ کوٹھے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوکر گھر واپس آگئی۔ اُنہوں نے پولیس کو بتایا، ’’میرے پاس موبائل فون نہیں تھا، اس لیے میں اپنے خاندان کے افراد سے رابطہ نہیں کرسکی۔‘‘

ڈیڑھ سال بعد اپنے دونوں بچوں سے دوبارہ ملنے والی خاتون نے پولیس کو اپنی شناخت کی تصدیق کےلیے اپنے آدھار اور ووٹر آئی ڈیز پیش کیے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق للیتا بائی ستمبر 2023 میں گاندھی ساگر علاقے سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ کچھ دنوں بعد ایک ٹرک حادثے کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں متاثرہ عورت کی لاش کا سر کچلا ہوا تھا۔ اس لاش کو للیتا کے والد اپنی بیٹی کے طور پر پہچان لیا تھا اور بعد ازاں جھابوہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

للیتا کے والد نے بتایا، ’’’جب ہم نے للیتا کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی، تو تھاندلا پولیس نے ہمیں ایک عورت کی لاش کے ملنے کی اطلاع دی، جس کا سر کچلا ہوا تھا۔ ہم وہاں گئے اور اپنی بیٹی کی لاش کو اُس کے پیر میں بندھے کالے دھاگے اور ٹیٹو کی بنیاد پر پہچان لیا۔ ہم نے آخری رسومات بھی ادا کر دیں۔‘‘

للیتا کے قتل کے الزام میں چار افراد عمران، شاہ رخ، سونو اور اعجاز کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ ملزمان اب بھی مقدمے کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جھابوہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پدم ولوچن شکلا نے بتایا تازہ حالات کے پیش نظر اب مقامی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں خاتون کے دوبارہ ظاہر ہونے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ عدالت نے معاملے کی معلومات طلب کی ہیں۔

شکلا نے خبر رساں ادارے کو بتایا، ’’ہم سب سے پہلے خاتون کا میڈیکل معائنہ اور ڈی این اے ٹیسٹ کریں گے، اور گواہوں کے بیانات بھی دوبارہ ریکارڈ کریں گے۔ صرف مکمل تفتیش کے بعد ہی ہم یہ بات یقینی طور پر کہہ سکیں گے کہ گاندھی ساگر پولیس اسٹیشن پر آنے والی خاتون وہی ہیں، جنہیں قتل ہوا سمجھا جارہا تھا۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے پولیس کو گیا تھا قتل کے

پڑھیں:

ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم

حکومتِ پنجاب نے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے شہریوں کے لیے ایک بہترین اور زبردست سہولت والے اقدام کا اعلان کیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اب صوبے بھر میں گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والوں کو ہر وقت پلاسٹک یا کاغذی ڈرائیونگ لائسنس اپنے ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود ’ای ڈرائیونگ لائسنس‘ کو قانونی طور پر مکمل قابل قبول قرار دے دیا گیا ہے۔

ڈی ایل آئی ایم ایس کا جدید ڈیجیٹل نظام

پنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق یہ نیا اور پیپر لیس نظام ’ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) کے تحت کام کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں 16 تا 18 سال کے بچوں کے ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا شروع

اس اسمارٹ ڈیجیٹل اقدام کا بنیادی مقصد روایتی کاغذی کارروائی اور لائسنس گم ہونے یا گھر بھول جانے کے باعث شہریوں کو چالان کے خوف سے نجات دلانا اور ٹریفک کے پورے نظام کو تیز رفتار اور مؤثر بنانا ہے۔

موبائل فون پر لائسنس دکھائیں اور چالان سے بچیں

نئے قوانین کے تحت اب سڑک پر موجود ٹریفک وارڈنز اور اہلکاروں کے لیے موبائل اسکرین پر دکھایا جانے والا ڈیجیٹل لائسنس ہی حتمی اور درست تصور کیا جائے گا۔

پولیس کے اعلیٰ حکام نے سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ٹریفک اہلکار، شخص یا ادارہ اس ڈیجیٹل لائسنس کو تسلیم کرنے سے انکار کرے، تو شہری اس کے خلاف فوری طور پر قانونی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

شکایت کے لیے واٹس ایپ نمبر اور ہیلپ لائن جاری

ٹریفک پولیس پنجاب نے شہریوں کی سہولت اور کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا انکار کی صورت میں فوری ایکشن کے لیے درج ذیل رابطے فراہم کیے ہیں، سرکاری ہیلپ لائن نمبر1787 جبکہ آفیشل واٹس ایپ نمبر 03184642936 ہوگا۔

مزید پڑھیں:دبئی کا ڈرائیونگ لائسنس پاکستان میں نہیں چلے گا، ٹریفک پولیس نے اوورسیز پاکستانی کا چالان کردیا

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں اور اہلکاروں کے لیے ای لائسنس کو قبول کرنا لازمی ہوگا اور اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ کار

شہری اپنا پورٹیبل ای ڈرائیونگ لائسنس انتہائی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پنجاب حکومت کی آفیشل ویب سائٹ https://dlims.punjab.gov.pk/elicense پر جانا ہوگا، جہاں وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر اور دیگر مطلوبہ معلومات درج کر کے اپنا لائسنس دیکھ اور پی ڈی ایف فارمیٹ میں موبائل میں محفوظ کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پورٹیبل ٹریفک پولیس پنجاب ڈاؤن لوڈ ڈرائیونگ ڈی ایل آئی ایم ایس شہری لائسنس موبائل فون ہیلپ لائن

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے