بیجنگ :ٹرمپ  انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے سیاستدان کے طور پر ریپبلکن سینیٹر سٹیو ڈیانس کے دورہ چین نے بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ ڈیانس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ہیں اور انہوں نے ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران امریکہ چین اقتصادی اور تجارتی مذاکرات میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس وقت ڈیانس کی چین آمد کو بیرونی دنیا چین اور امریکہ کے درمیان رابطے کو برقرار رکھنے کے لیے تازہ ترین اقدام سمجھتی ہے۔ منگل کے روز چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ  ڈیانس  اور ان کے وفد سے ملاقات میں چین کی اعلی قیادت کا بیان سیدھا اور  واضح  تھا: چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات  میں جتنی مشکلات ہوں گی اتنا ہی  چین امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعاون   کی حفاظت و ترقی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہو گی تاکہ فریقین کے درمیان تعلقات میں استحکام لایا جائے۔ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہے اورمحصولات عائد کرنے سے کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی حاصل نہیں ہوتی۔  ہمیں تعاون کو بڑھانے سے حاصل ہونے والے فوائد  کے ذریعے  تجارتی عدم توازن جیسے  مسائل کو حل کرنا چاہیئے۔  یہ نہ صرف امریکہ کو تجارتی جنگ نہ بڑھانے کے لئے  ایک انتباہ ہے  بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی مسائل کا حل بھی فراہم کرتا ہے۔ ڈیانس کے دورہ چین کے  ساتھ ساتھ  ایلی، کوالکوم، ایپل، بلیک اسٹون، کارگل اور فیڈ ایکس سمیت کئی معروف امریکی کمپنیوں    کے سربراہان بھی  سالانہ چائنا ڈیویلپمنٹ فورم میں شرکت کے لئے چین پہنچے۔ موجودہ  فورم میں غیر ملکی کمپنیوں کی بہتات ہے ، جن میں سے تقریباً ایک تہائی امریکہ سے ہے۔درحقیقت،  بہت سی بڑی امریکی کمپنیوں کی جانب سے بڑی رکاوٹوں کے باوجود بھی چین  کے دورے سے  ظاہر  ہوا ہے کہ وہ کھلی عالمی تجارت کے تصور کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ “اقتصادی قوم پرستی” کے جھنڈے تلے امریکہ کی طرف سے شروع کی جانے والی تجارتی جنگ ، امریکی تجارتی عدم توازن کو ختم نہیں کرسکتی اور نہ ہی مینوفیکچرنگ کی صنعت کی امریکا  واپسی کو عملی جامہ پہنائےگی، بلکہ اس کے برعکس اس سے معاشی سست روی  اور عوام کی روزی روٹی کےلئے مشکلات کا خطرہ بڑھ جائے گا، جس سے امریکہ بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ ہو جائے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ  سینیٹر ڈیانس نے چین میں جو کچھ دیکھا اور سنا،  اسے وہ امریکہ واپس لے جائیں گے اور   “امن سے فوائد اور لڑائی سے تباہی” کا پیغام امریکا تک پہنچائیں گے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے درمیان

پڑھیں:

کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں سے سینٹر میں فراہم کردہ سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا، شہریوں سے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے کے عمل بارے پوچھا۔ نادرا میگا سینٹر میں موجود شہریوں نے مہیا کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یونیورسٹی روڈ صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹرکا اچانک دورہ کیا۔ وزیر داخلہ نے شہر قائد کے نادرا میگا سینٹر میں شہریوں کے لئے سہولتوں کا جائزہ لیا، محسن نقوی شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنانے کے لیے آئے شہریوں سے ملے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں سے سینٹر میں فراہم کردہ سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا، شہریوں سے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے کے عمل بارے پوچھا۔ نادرا میگا سینٹر میں موجود شہریوں نے مہیا کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے میں انتظار نہیں کرنا پڑتا، وقت پر باری آ جاتی ہے اور عملہ بھی مکمل تعاون کرتا ہے۔ محسن نقوی مختلف کاؤنٹرز پر گئے اور خصوصا بزرگ شہریوں سے گفتگو کی اور ان کے ایشوز پوچھے، بزرگ شہریوں اور خواتین کے کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا سینٹر کے انچارج اور عملے کی کارکردگی کی تعریف کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی