پی ایس بی کا سپورٹس فیڈریشنز میں دو مدتوں سے زائد عہدوں پر برقرار رہنے کا نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(اسپورٹس ڈیسک)پاکستان اسپورٹس بورڈ نے کھیلوں کی فیڈریشنز میں دو مدتوں سے زائد عہدوں پر برقرار رہنے کا نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سپورٹس پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر نو سپورٹس فیڈریشنز کے عہدیداران کو انتباہی خط ارسال کر دیئے۔خط میں کہا گیا ہے کہ قومی سپورٹس پالیسی کے مطابق فیڈریشن یا ایسوسی ایشن میں کسی بھی عہدیدار کی مدتِ عہدہ چار سال ہے اور کوئی بھی فردمسلسل تین مدت کیلیاس عہدے پر فائزنہیں رہ سکتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق پی ایس بی سے الحاق کیلئے نیشنل سپورٹس پالیسی پر عمل لازمی ہے، خط میں بیس بال فیڈریشن کے عہدداران سید فخر شاہ، شوکت جاوید، پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کے لیفٹیننٹ کرنل ر وسیم احمد جنجوعہ، مرتضی بنگش، جوڈو فیڈریشن کے کرنل( ر) جنید عالم، مسعود احمد، سلینگ فیڈریشن کے کموڈور ر اکرام طارق کو عہدوں پر موجودگی کو قومی سپورٹس پالیسی کی خلاف ورزی کے مرتکب قراردیا ہے۔ خلاف ورزی کے مرتکب عہدیداران 30 یوم میں اصلاح کرنے کی تنبہیہ کہ گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپورٹس پالیسی فیڈریشن کے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔