کراچی کی جیل میں قید بھارتی شہری نے پھندا لگا کر زندگی کا خاتمہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
کراچی کی ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں قید کاٹنے والے بھارتی شہری نے خود کشی کرلی۔
یہ بھی پڑھیں ایرانی جیل میں قید کرد خاتون نے بطور احتجاج اپنے ہونٹ سی لیے
جیل انتظامیہ نے بتایا کہ بھارتی قیدی گورو ولد رام آنند نے جیل کے واش روم میں پھندا لگا کر زندگی کا خاتمہ کیا۔
جیل انتظامیہ کے مطابق اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں کہ بھارتی قیدی نے خود کشی کیوں کی۔
یہ بھی پڑھیں کراچی کی جیلوں کے 13 ہزار قیدی اعتکاف سے کیوں محروم ہو گئے؟
جیل انتظامیہ نے بتایا کہ ملزم کو 17 فروری 2022 کو ملیر جیل منتقل کیا گیا تھا۔ خود کشی کرنے والے بھارتی قیدی کی لاش کو سہراب گوٹھ سرد خانے میں منتقل کردیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی قیدی خودکشی ڈسٹرکٹ جیل ملیر قیدی کراچی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی قیدی ڈسٹرکٹ جیل ملیر کراچی وی نیوز بھارتی قیدی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔