اگر آپ گوگل کروم ویب براؤزر استعمال کرتے ہیں تو فوری طور پر اسے اپ ڈیٹ کرلیں۔گوگل کی جانب سے دنیا کے مقبول ترین ویب براؤزر میں موجود ایک بڑی سکیورٹی خامی دور کرنے کے لیے اپ ڈیٹ کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 50 سے 60 فیصد افراد براؤزنگ کے لیے گوگل کروم کو ترجیح دیتے ہیں، تو اس میں موجود سکیورٹی کمزوری بہت بڑا خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر کام کرنے والے کمپیوٹرز میں کروم براؤزر میں یہ سکیورٹی خامی سامنے آئی تھی۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس نے سکیورٹی کمزوری کی روک تھام کے لیے اپ ڈیٹ کی ہے۔گوگل نے بتایا کہ CVE-2025-2783 نامی سکیورٹی بگ سے صارفین کو خطرہ لاحق ہے۔کچھ دن قبل آن لائن سکیورٹی کمپنی Kaspersky کے ماہرین نے اس خامی کا انکشاف کیا تھا۔

ماہرین کے مطابق ہیکرز پہلے ای میلز بھیجتے ہیں اور جو افراد ای میل پر موجود لنک کو کلک کرتے ہیں وہ ایسی ویب سائٹس پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے بگ (bug) فوری طور پر ان کے کمپیوٹر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرلیتا ہے۔گوگل نے تسلیم کیا کہ ہیکرز نے اس خامی کو استعمال کرکے مختلف صارفین کو نشانہ بنایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ براؤزر کو فوری اپ ڈیٹ کرلینا چاہیے۔

کروم براؤزر کو اپ ڈیٹ کیسے کریں؟

عموماً گوگل کروم خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہوجاتا ہے۔اگر آپ کو معلوم نہیں کہ براؤزر اپ ڈیٹ ہوچکا ہے یا نہیں تو تھری ڈاٹ مینیو پر کلک کرکے سیٹنگز میں جائیں۔وہاں اباؤٹ کروم پر کلک کریں جو پیج کے بائیں جانب سب سے نیچے ہوگا۔

اس کے بعد کروم کی جانب سے بتایا جائے گا کہ براؤزر اپ ٹو ڈیٹ ہے، اگر نہیں ہوگا تو وہ اپ ڈیٹ ہونا شروع جائے گا۔اس کے بعد بس ری لانچ کریں گے تو کروم اپ ڈیٹ ہوجائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: گوگل کروم براو زر اپ ڈیٹ

پڑھیں:

سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔

پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار