Express News:
2026-07-24@15:35:07 GMT

صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ   

اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT

جوڈیشل مجسثریٹ ایسٹ کی عدالت نے صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت نے کہا کہ فیصلہ کل سنایا جائے گا، عدالت نے ڈائریکٹرایف آئی اے کو کل ذاتی طورپرطلب کرلیا،عدالتی اجازت کے بغیر ملزم کو دوسرے مقدمے میں گرفتارکرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو شوکازنوٹس جاری    کردیا، معیزجعفری ایڈووکیٹ    نے کہا کہ  مقدمہ بدنیتی پرمبنی ہے،  ایف آئی اے اب تک یہ نہیں بتاسکی کہ جرم کیاکیاہے،  صرف یہ کہہ دینااینٹی اسٹیٹ مواد کافی نہیں،  یہ توبتایاجائےکہ کون سی رپورٹ یا خبراینٹی اسٹیٹ ہے؟

وکیل صفائی نے کہا کہ ویب سائٹ پرہرچیزموجودہے پھرجسمانی ریمانڈکیوں لیا گیا،  کسی ایک لفظ کی نشاندھی نہیں کی گئی جواینٹی اسٹیٹ ہے، ایف آئی اے کی کہانی سے لگتا ہے کہ ویب سائیٹ چلاناہی جرم ہے،  یہ بھی نہیں بتارہے کہ فرحان ملک نے کس ادارے کی بے حرمتی کی ہے،   فرحان ملک کے خلاف کسی ادارے نے شکایت نہیں کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ  چھاپہ ضلع ایسٹ میں ماراگیا مقدمہ ملیر کابنادیاگیا، ملزم کوعدالتی حکم پرجیل منتقل کرنےکےبجائےدوسری عدالت سے ریمانڈ لےلیاگیا۔

عدالت  نے سوال   کیا یہ کیسے ممکن ہے،  جیل کسٹڈی کے بعد ملزم کو کہاں لےکر جاناتھا، تفتیشی افسر     نے جواب دیا کہ  میں دوسرے مقدمےکیلئےعدالت میں موجودتھا مجھےپتہ چلاکہ ملزم کو دوسرے مقدمےمیں گرفتارکرلیاگیا۔

عدالت نے کہا کہ یہ توقانون کی کھلی خلاف ورزی ہے،  کس کےحکم پرملزم کو جیل کیبجائے دوسرے کیس میں گرفتارکیاگیا، کراچی: نام بتائیں جس نے یہ حرکت کی ہے، تفتیشی افسرنے کہا کہ  مجھے آفس سے فون آیا تھا، عدالت  نے پوچھا  کس کافون تھا، نام بتاؤ، تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ  منشی کافون آیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ بلائیں ان افسران کو جنہوں نےعدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے، تفتیشی افسر  نے کہا کہ  فرحان ملک نے پاکستان کے نام کامذاق اڑایا، اس پوسٹ پر انتہائی نامناسب کمنٹس تحریرہیں، تفتیشی افسر   نے کہا کہ  کیا کوئی صحافی ایسا کرسکتاہے؟  پاکستان اور پاک فوج کامذاق اڑایاگیا، کیا کوئی ذمےدارصحافی ایساکرسکتاہے؟  ملزم کو بلاکرہربات سے آگاہ کیا گیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تفتیشی افسر فرحان ملک نے کہا کہ عدالت نے ملزم کو

پڑھیں:

سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ

کراچی:

سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔

سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔

تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔

مزید پڑھیں

سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد

سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی

تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔

ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا