اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 مارچ2025ء) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ )کے ترجمان نے کہا ہے کہ جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جعلی ادویات کے خاتمہ سے محفوظ اور موثر ادویات کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں ۔ ترجمان ڈریپ کی جانب سے ہفتہ کو جاری تفصیلات کے مطابق ڈریپ نے صوبائی صحت حکام کے ساتھ مل کر کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔

اس حوالہ سے سی ای او ڈریپ نے کہا ہے کہ بھاری مقدار میں غیر قانونی ادویات کو قبضہ میں لیکر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لاہور میں غیر قانونی طور پر یوروگرافن 76 فیصد انجکشن فروخت کرنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی طرح بغیر لائسنس اور زائد قیمتوں پر ادویات کی فروخت جیسے الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں ۔

(جاری ہے)

سی ای او ڈریپ نے کہا ہے کہ لاہور میں ڈریپ کی ٹیم نے نجی ہسپتال کے قریب ایک شخص کو گرفتار کیا ہے،مذکورہ شخص غیر رجسٹرڈ لیپیوڈول الٹرا لیکوئڈ کی فروخت میں ملوث تھا۔

بعد ازاں میسرز الوالی تقسیم کاروں پر چھاپہ مارااور غیر قانونی اشیاء برآمد کی گئیں،ڈسٹری بیوٹرز کمپنی کو سیل کر دیا گیا اور تحقیقات شروع کر دی گئیں ۔ اسلام آباد میں کہوٹہ روڈ، انڈسٹریل ٹرائینگل میں ایک فیکٹری پر اچانک چھاپہ مارا گیا،جہاں پلاسٹک یورین کلیکشن کنٹینرز بغیر لازمی سٹیبلشمنٹ لائسنس کے تیار کیے جا رہے تھے ، میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 اور ڈریپ ایکٹ 2012 کی سنگین خلاف ورزی ہے،تمام غیر قانونی اشیاء ضبط کر لی گئیں اور فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔

اسلام آباد ایمبرو فارماسیوٹیکلز وہاں غیر قانونی طور پر طبی آلات تیار اور ذخیرہ کیے جا رہے تھے،جس کا ڈریپ کا ڈرگ مینوفیکچرنگ لائسنس پہلے ہی منسوخ کر چکا ہے ، اس کیخلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر دی گئی اور فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔ سی ای او ڈریپ نے مزید کہا کہ اتھارٹی نے مارکیٹ میں جعلی پروپیلین گلائکول کی موجودگی پر فوری الرٹ جاری کیا ہے،ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ کے مطابق، بیچ YF01210911 میں خطرناک حد تک زہریلا ایتھیلین گلائکول (EG) پایا گیا ہے،ڈریپ نے تمام متعلقہ اداروں کو خام مال کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈریپ عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلیے پر عزم ہے ،عوام سے اپیل ہے وہ کسی بھی مشکوک دوا یا طبی آلات کی فروخت کی اطلاع ڈریپ حکام کو دیں ،.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کر دیا گیا ڈریپ نے نے کہا گیا ہے

پڑھیں:

مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں

بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں

بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔

مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں

انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔

اعتماد میں کمی کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا

رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔

حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گے

ماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔

اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنج

جیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب

رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل