اب میں بھی گالم گلوچ، سازشیوں سے دو،دو ہاتھ کروں گا: شیرافضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
ایم این اے شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اپنے اہداف سے ہٹ گئی ہے، پی ٹی آئی کوسیاسی اتحاد بنانے سے پہلے پارٹی کے اندراتحاد پیدا کرنا ہوگا ۔ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ایک سال سے تحریک انصاف بمقابلہ تحریک انصاف جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اپنے اہداف سے ہٹ گئی ہے،میرا ڈسپلن کا مسئلہ ہوگا کیا باقیوں کا بھی یہی مسئلہ تھا،باقی وکلا کوکیوں فارغ کیا گیا، ہم سب کی شناخت ہی وکالت ہے،عمران خان کو وکلا کے بارے میں غلط گائیڈ کیا جاتا ہے۔ایم این اے کا کہنا تھا کہ مجھے پارٹی سے نکال دیا بہت شکریہ، میرے خلاف آج تک گالم گلوچ جاری ہے، اب میں بھی گالم گلوچ، سازشیوں سے دو،دو ہاتھ کروں گا۔شیرافضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کوسیاسی اتحاد بنانے سے پہلے پارٹی کے اندراتحاد پیدا کرنا ہوگا، پی ٹی آئی کو اتحاد کی ضرورت ہے، یک طرفہ طور پر پارٹی سے لوگوں کو نکال دیا جاتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا ڈسپلن کا مسئلہ تھا توفیصل چودھری اوربابراعوان نے کیا کیا؟ پی ٹی آئی وکلا ٹیم میں لڑائیاں اور بڑھیں گی، وکلا کو کروڑوں کی فیسیں دیں مگربانی کو رہا نہیں کراسکے۔ایک اور سوال کے جواب میں ایم این اے کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے دوران لوگ بکے، پی ٹی آئی کے10سے50لوگ جا سکتے ہیں، کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا کون پارٹی سے جائے گا، حکومت پی ٹی آئی کے بندے توڑنیکی کوشش کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کہنا تھا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔