عیدالفطر اللہ کا انعام، اندرونی، بیرونی خطرات لاحق، متحد ہونا ہو گا: صدر، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) صدر مملکت آصف علی زرداری نے عید الفطر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پوری قوم اور عالمِ اسلام کو عید الفطر پر دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ خوشی کا یہ دن ہمیں رمضان المبارک کی برکتوں، عبادات اور تقوی کے سفر کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ عیدالفطر اللہ تعالی کا انعام ہے جو اللہ نے ہمیں روزے کی عبادت پر عطا کیا ہے۔ عیدالفطر کے موقع پر ہمیں اپنے ان بہن بھائیوں کو یاد رکھنا چاہیے جو معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ اصل خوشی دوسروں کے ساتھ اپنی خوشیاں بانٹنے میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ زکوۃ، صدقات اور فطرانہ بڑھ چڑھ کر ادا کریں تاکہ کوئی بھی ضرورت مند عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ یہ دن ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا بھی درس دیتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، ایک دوسرے کا سہارا بنیں اور پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس موقع پر میں اہل مقبوضہ جموں و کشمیر کیلئے بھی دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی انہیں جلد آزادی کے ساتھ عید نصیب فرمائے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے قوم کو عیدالفطر کی مبارکباد دی ہے۔ وزیراعظم نے پیغام میں کہا کہ عیدالفطر خوشی، شکر گزاری، اخوت اور ہمدردی کا درس دیتی ہے۔ رمضان المبارک کی تربیت کو زندگی میں جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اندرونی و بیرونی خطرات لاحق ہیں، ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ ہمیں انتہا پسندی، نفرت اور فرقہ واریت سے بچنا ہوگا۔ معاشی استحکام اور قومی یکجہتی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اقتصادی بحالی اور امن و امان کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاک فوج کے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ جعفر ایکسپریس سانحہ شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا گو ہیں۔ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عید کی خوشیوں میں مستحقین کو شریک کریں۔ فلاحی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان ہمیشہ مظلوم مسلمانوں کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عید الفطر کے پرمسرت موقع پر پاکستانی عوام بالخصوص اور پوری امت مسلمہ کو بالعموم دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ اپنے پیغام میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عید ہمیں ہمدردی، بھائی چارے اور ضرورت مندوں کا ساتھ دینے کی اہمیت سکھاتی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس بابرکت دن پر ہمیں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے جو غربت سے نبرد آزما ہیں، وہ خاندان جو دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں، اور وہ لوگ جو معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔