معصوم بچے کے سامنے خونی منظر، ڈکیتی مزاحمت پر کراچی میں ایک اور شہری قتل
اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مقتول عامر کو ایک ملزم کو دبوچتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ساتھی کو چھڑانے کیلئے ملزم کے دوسرے ساتھی نے گتھم گتھا عامر کو گولیوں سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ڈکیتی میں مزاحمت پر ایک اور شہری کو قتل کر دیا گیا، جبکہ خونی واردات ایک معصوم بچے کے سامنے ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی بے بسی کے باعث شہر قائد پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بے خوف ڈاکوؤں کا راج ہے، جو واردات کے دوران شہریوں کو سرعام قتل کرکے کامیابی سے فرار ہو جاتے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق تازہ واقعہ شہر کے علاقے ڈیفنس فیز 1 کے قریب پیش آیا، جہاں ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ بعد ازاں ذرائع کے مطابق بچے کے سامنے قتل کا افسوس ناک واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ نکلا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
اہل خانہ کے مطابق 38 سالہ عامر اسٹیٹ ایجنسی کا کام کرتا تھا، جو گھر سے کسی کام کیلئے نکلا اور گاڑی میں سوار ہونے لگا تو ڈاکو پہنچ گئے۔ اہل خانہ نے بتایا کہ 2 موٹرسائیکلوں پر 3 سے 4 ملزمان آئے۔ اس دوران مزاحمت پر عامر کو ڈاکوؤں نے گولیاں ماریں، جس میں سے 2 گولیاں عامر کو لگیں۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں مقتول عامر کو ایک ملزم کو دبوچتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ساتھی کو چھڑانے کیلئے ملزم کے دوسرے ساتھی نے گتھم گتھا عامر کو گولیوں سے نشانہ بنایا۔ افسوس ناک واقعے میں مقتول کے ساتھ موجود بچے نے بے بسی کی تصویر بن کر پورا خونی منظر دیکھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک