وزیراعظم کی رمضان ریلیف پیکیج ماڈل کو دیگر سرکاری سکیموں میں اپنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
وزیراعظم کی زیر صدارت رمضان ریلیف پیکیج 2025ء کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں رمضان ریلیف پیکیج کی کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ 79 فیصد رقوم انتہائی شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکیج کیلئے استعمال ہونے والے ادائیگی کے طریقہ کار کو دیگر سرکاری سکیموں میں بھی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم کی زیر صدارت رمضان ریلیف پیکیج 2025ء کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، جس میں رمضان ریلیف پیکیج کی کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ 79 فیصد رقوم انتہائی شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچائی جا چکی ہیں، جبکہ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے 1.
وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے شفاف اور آسان طریقے سے رقوم مستحقین تک پہنچائی گئیں، رمضان ریلیف پیکیج کے لئے کام کرنے والی حکومتی کور ٹیم اور معاون اداروں کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رمضان ریلیف پیکیج کیلئے پہلی بار ڈیجیٹل والٹ متعارف کرایا گیا، رمضان پیکیج پورے پاکستان بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کیلئے تھا، سٹیٹ بینک، بی آئی ایس پی، پی ٹی اے، نادرا اور دیگر کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکیج کے دوران موصول ہونے والی شکایات کو آئندہ لائحہ عمل بناتے ہوئے مدنظر رکھا جائے، اس ماڈل کو دیگر حکومتی سکیموں میں اپنایا جائے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، متعلقہ سرکاری افسران اور رمضان ریلیف پیکیج کے حوالے سے معاون نجی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رمضان ریلیف پیکیج کی
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔