پاک فوج کا انٹیلی جنس بیسڈ کامیاب آپریشن، انتہائی مطلوب دہشتگرد ساتھیوں سمیت ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان (ڈیلی پاکستان آن لائن )ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ٹکوارہ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے 6 اور 7 اپریل کی درمیانی شب آپریشن کرتے ہوئے 9 خوارج کو ہلاک کر دیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 9 خوارج ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والوں میں ایک انتہائی مطلوب خارجی سرغنہ شیرین بھی شامل تھا جبکہ مارے گئے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
سانحہ سیاچن گلیشئر کے شہداء کی تیرہویں برسی آج منائی جارہی ہے
خارجی رِنگ لیڈر شیرین قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے انتہائی مطلوب تھا۔ کئی بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ 20 مارچ 2025 کو کیپٹن حسنین اختر شہید کی شہادت میں بھی ملوث تھا۔
آپریشن نے اس سنگین جرم کا بدلہ لے لیا ہے اور مرکزی مجرم اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بچے ہوئے خارجی کو انجام تک پہنچایا جا سکے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
بھارتی اداکار جوڑی نے شادی کے 9 سال بعد راہیں جدا کرلیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔