سپریم کورٹ میں بدھ کے روز کم از کم 2 مقدمات میں ایڈووکیٹ حامد خان کی عدم دستیابی کے باعث سماعت مزید کسی کارروائی کے بغیر ملتوی کردی گئی، ایک موقع پر سینیئر قانون دان کی غیرحاضری سے زچ ہوکر جسٹس جمال مندوخیل نے انہیں ’سیاست یا وکالت‘ میں سے ایک کے انتخاب کا مشورہ دیدیا۔

قاضی فائز عیسیٰ کو سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات کی سماعت سے روکنے کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے دریافت کیا کہ کیا یہ کیس غیرموثر نہیں ہوگیا، عدالتی بینچ نے قاضی فائز عیسیٰ کو بانی تحریک انصاف عمران خان کے مقدمات کی سماعت سے روک دیا تھا۔

جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تو ریٹائر ہو گئے ہیں، کیا جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ لائیو ایشو ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شادی شدہ بیٹیوں کو مرحوم والد کے کوٹے پر ملازمت نہ دینا غیر قانونی اور امتیازی سلوک ہے، سپریم کورٹ

جسٹس جمال مندوخیل بولے؛ معاملہ کو حل تو کرنا پڑے گا، جج کو مقدمہ سننے سے روکنے کا عدالتی حکم دیا گیا، مستقبل کے لیے معاملہ حل کرنا پڑے گا، عدالتی استفسار پر حامد خان کے معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ حامد خان سینیٹ کمیٹی میں شرکت کی وجہ سے دستیاب نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل  نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس کتنے بجے ہے، شیڈول دکھائیں، جس پرجونیئروکیل نے بتایا کہ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس 2 بجے دوپہر ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل بولے؛ پھر تو حامد خان کو عدالت آنا چاہیے تھا، سیاست کر لیں یا پھر وکالت کر لیں۔

سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ حامد خان کی عدم دستیابی پر سماعت ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں:پشاور یونیورسٹی کا شعبہ صحافت ارشد شریف سے منسوب، خیبرپختونخوا یونین آف جرنلسٹس کا احتجاج

اسی طرح گلگت بلتستان کی عدلیہ میں کی گئی تعیناتیوں سے متعلق کیس کی سماعت بھی حامد خان کی عدم دستیابی کے باعث ممکن نہ ہوسکی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔

یہاں بھی وکیل رہنما حامد خان نے التوا کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گلگت بلتستان عدلیہ کا معاملہ سیاسی ایشو بن گیا ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے دریافت کیا کہ کیا زیر التوا کیس کی وجہ سے جی بی عدلیہ کی ورکنگ متاثر ہو رہی ہے، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ عدلیہ کی ورکنگ کا ایشو تو آرہا ہے۔

مزید پڑھیں:بریت کے بعد ملزم پر جرم کا داغ ہمیشہ نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

عدالت نے حامد خان کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئینی بینچ ایڈیشنل اٹارنی جنرل جسٹس امین الدین خان حامد خان سابق وزیراعظم سپریم کورٹ سیاسی ایشو عدلیہ عمران خان قاضی فائز عیسیٰ گلگت بلتستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایڈیشنل اٹارنی جنرل جسٹس امین الدین خان سپریم کورٹ سیاسی ایشو عدلیہ قاضی فائز عیسی گلگت بلتستان جسٹس جمال مندوخیل قاضی فائز عیسی سینیٹ کمیٹی حامد خان کی سپریم کورٹ کی سماعت

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس