صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، فوٹیج میں عامر نواز کی گاڑی اور ان کے پیچھے موٹر سائیکل سوار افراد کو دیکھا جاسکتا ہے۔
منگل کی رات کو آئی آئی چندریگر روڈ پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ پر حملہ کیا گیا تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج جیو نیوز نے حاصل کرلی۔
فوٹیج میں عامر نواز وڑائچ کی گاڑی مختلف سڑکوں سے ہوتی ہوئی آئی آئی چندریگر روڈ پر آرہی ہے جبکہ ان کے تعاقب میں موٹر سائیکل سوار افراد کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
جیسے ہی عامر نواز آئی آئی چند ریگر روڈ پر ایک ہوٹل پر رکے انھیں چار سے چھ افراد نے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور عامر نواز زمین پر گرتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔ فوری طور پر انھیں سول اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں انھیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
واقعے کا مقدمہ متعلقہ تھانے میں عامر نواز وڑائچ کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے، مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ جب وہ آئی آئی چند ریگر روڈ آرہے تھے تو ایم اے جناح روڈ پر انھیں موٹر سائیکل سوار افراد نے روکنے کی کوشش کی تھی۔ حملہ آور ان کے موبائل فون سمیت دیگر قیمتی اشیا بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔
مقدمے میں عامر نواز نے مزید کہا ہے کہ بعد میں انھیں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک خاتون کے بارے میں پتہ چلا جن کی طرف سے حملہ کروایا گیا جو کہ اپنے بھائیوں کے نام لے کر بتا رہی ہیں جبکہ عامر نواز اس خاتون کو نہیں جانتے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عامر نواز وڑائچ میں عامر نواز روڈ پر
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔