اسلام ٹائمز: یکجہتی غزہ مارچ سے حافظ نعیم الرحمٰن، شیخ مروان ابو العاص، ڈاکٹر زوہیر ناجی، علامہ سید حسن ظفر نقوی، کاشف سعید شیخ، منعم ظفر خان، سیف الدین ایڈوکیٹ، توفیق الدین صدیقی، آبش صدیقی، یونس سوہن ایڈوکیٹ و دیگر نے خطاب کیا۔ خصوصی رپورٹ

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمٰن کی زیر قیادت کراچی کی شاہراہ فیصل پر عظیم الشان ”یکجہتی غزہ مارچ“ کا انعقاد کیا گیا، لاکھوں کی تعداد میں کراچی کے عوام، علماء، وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، طلبہ، تاجر، مزدور سمیت سول سوسائٹی و تمام طبقات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ مرد و خواتین ایمانی جذبے اور بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اپنی فیملی کے ہمراہ جوق درجوق ”یکجہتی غزہ مارچ“ میں شریک ہوئے۔ یکجہتی غزہ مارچ میں مرکزی خطاب حافظ نعیم الرحمٰن نے کیا، جبکہ چیئرمین القدس اتحاد المسلمین شیخ مروان ابو العاص، حماس کے ترجمان و غزہ کے رہائشی ڈاکٹر زوہیر ناجی، امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ، امیر کراچی منعم ظفر خان، نائب امیر کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، سکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید حسن ظفر نقوی، اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم آبش صدیقی، جماعت اسلامی کراچی اقلیتی ونگ کے رہنما یونس سوہن ایڈوکیٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مرکزی امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے شاہراہ فیصل پر ”یکجہتی غزہ مارچ“ کے لاکھوں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے اہل غزہ و فلسطین کیلئے عملی کردار ادا نہ کیا تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، حکومتِ پاکستان لیڈنگ رول ادا کرے، وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت آگے بڑھیں، عالم اسلام کے حکمرانوں اور فوجی سپہ سالاروں کا اجلاس بلائیں اور اسرائیل کو مشترکہ طور پر واضح پیغام دیں کہ اگر فلسطینیوں کی نسل کشی بند نہ کی گئی تو ہم پیش قدمی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی تحریک کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی، حماس محبت، خدمت، مزاحمت، مقاومت اور سامراج کے خلاف جہاد و قتال کا عنوان ہے، اہل غزہ و حماس سے اظہار یکجہتی کیلئے 22 اپریل کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو خطوط ارسال کر چکے ہیں، فلسطینی قیادت سے توثیق لے چکے ہیں، عالم اسلام کی تحریکوں سے رابطہ کیا جا رہا ہے، 22 اپریل کی ہڑتال کو گلوبل ہڑتال بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طاغوت کے ہتھیار سے طاغوت کا مقابلہ کریں گے، طاغوت کی تجارت نہیں چلنے دیں گے، صیہونی مصنوعات کی بائیکاٹ کی مہم مزید تیز کریں گے، پاکستان کے علمائے کرام نے جہاد کا فتویٰ دیا اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تو اس پر امریکا و اسرائیل کے غلاموں اور یہودی ایجنٹوں کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور پی ٹی آئی امریکا و اسرائیل کی مذمت اور ان دہشتگرد ریاستوں کے خلاف بات کیوں نہیں کرتیں، تمام جماعیتں امریکا سے آشیرباد وصول کرنے کیلئے لائن بنا کر کھڑی ہیں، امریکا و اسرائیل نے اقوام متحدہ کا چارٹر پھاڑ کر رکھ دیا ہے، امریکا و اسرائیل کے غلام اپنی سازشوں سے امت کے جذبہ جہاد کو کم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج شہر کراچی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ یہ شہر عالم اسلام کا سب سے بڑا شہر ہے، اہل کراچی کا لاکھوں کی تعداد میں شرکت کا جذبہ ضرور رنگ لائے گا، آج کا یکجہتی غزہ مارچ اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے، اہل فلسطین سے اظہار یکجہتی کی تحریک جاری رہے گی، بچوں کا بھی مارچ ہوگا، 18 اپریل کو ملتان اور 20 کو اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اہل غزہ جس مصیبت میں ہیں وہ بیان سے باہر ہے، 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، طاقتور کی حکمرانی ہے، استعمار اور سامراج فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل شکست کھا چکا ہے، اسرائیل کی ٹیکنالوجی کو دریا برد کر دیا ہے، اسرائیل غزہ کو جیل بنا رہا ہے اور رفح بارڈر پر قبضہ کر رہا ہے، آج بھی اسرائیل القسام کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اہل غزہ کے مسلمان کہہ رہے ہیں کہ پوری مسلم دنیا کے میزائل و ایٹم بم سامنے کیوں نہیں آتے، دنیا بھر کے باضمیر انسان تو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں، لیکن مغرب کا سامراجی ذہن سب کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل غزہ اہل کراچی سے جذبہ حاصل کر رہے ہیں، ڈیڑھ سال سے مقابلہ کر رہے ہیں، خلیل الحیہ مزاحمت و مقاومت کے محاز میں ڈٹے ہوئے ہیں، آج ان کے پوتے کو شہید کر دیا ہے، شہادتوں کا قافلہ اور عزیمتوں کی داستاں کو طاقت سے نہیں کچلا جا سکتا، ان شاء اللہ فلسطینیوں کو آزادی ضرور ملے گی، بچوں کے خون کی برکت سے سامراج سے نجات ملے گی۔

شیخ مروان ابو العاص نے اپنے آڈیو خطاب میں کہا کہ ہم فلسطینی بھائیوں کی طرف سے پاکستانی بھائیوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، آپ سب جانتے ہیں کہ غزہ میں ظلم و بربریت جاری ہے، ہمارے گھروں، مساجدوں اور اسپتالوں کو تباہ و برباد کر دیا ہے، اہل غزہ کے مسلمان امت کے مسلمانوں سے مدد طلب کر رہے ہیں، ہمارے بچوں اور عورتوں پر بمباری کی جا رہی ہے، میرے پاکستانی بھائیو، ہم بیت المقدس اور اہل غزہ کی آزادی کیلئے ڈٹے رہیں گے، اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچان لیا ہے، غزہ کے بچوں اور خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے صرف باتیں ہی کرتے ہیں، عملاً کچھ نہیں کیا جا رہا، مسجد اقصیٰ کو مکمل ہیکل سلیمانی میں تبدیل کرنے میں کوشاں ہیں، ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں مسجد اقصیٰ کی آزادی کے بعد مسجد اقصیٰ میں نماز شکرانہ ادا کریں گے۔

ڈاکٹر زوہیر ناجی نے کہا کہ جماعت اسلامی اور اہل کراچی کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے نکل کر مارچ میں  شرکت کرکے فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا، پاکستان کے عوام اول روز سے ایک غزہ و فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمارے دشمن صیہونی نے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، صیہونی ہمارا دشمن ہے اور وہ اپنی طاقت سے ہمیں شکست نہیں دے سکتا، ہم صیہونیوں کے سامنے ایمان قوت سے ڈٹے ہوئے ہیں، غزہ کی جنگ صرف غزہ کی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی جنگ ہے، ہم نے ایک دن کیلئے بھی صیہونیوں کے سامنے شکست تسلیم نہیں کی۔ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ اہل کراچی کو اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے سلام پیش کرتا ہوں، اہل غزہ امت مسلمہ کے حکمرانوں کو مدد کیلئے پکار رہے ہیں، عالم اسلام کے حکمرانوں سن لو، اب تقریر اور تحریر سے نہیں بلکہ اب عصا اٹھانا پڑے گا، اہل ایمان کی رمق اور جہاد فی سبیل اللہ کا عنوان بننے کی ضرورت ہے، معصوم بچوں اور خواتین پر بمباری کرکے اسلام کو ختم نہیں کر سکتے، گزشتہ ڈیڑھ سال سے اسرائیل غزہ پر بمباری کر رہا ہے، لیکن اہل غزہ استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں، اہل غزہ نے پیغام دیا ہے کہ ہم مٹ تو سکتے ہیں، لیکن اسرائیل کو قبول نہیں کر سکتے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ اہل کراچی کو مبارکباد اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے ثابت کر دیا کہ اہل کراچی کا دل مظلوموں کے ساتھ دھڑکتا ہے، جب بھی اہل غزہ نے پکارا ہے، اہل کراچی نے ثابت کر دیا کہ ہم کل بھی اہل غزہ کے ساتھ تھے اور آج بھی اہل غزہ کے ساتھ ہیں، گزشتہ ڈیڑھ سال سے ایک غزہ پر ظلم کی انتہا کر دی گئی، لاکھوں لوگوں کو شہید و زخمی کر دیا گیا، اہل غزہ ایمانی قوت اور اللہ پہ بھروسہ کرکے استقامت کا استعارہ بنے ہوئے ہیں، حماس اور اہل فلسطین نے اپنے عزم کے ذریعے ثابت کر دکھایا اور مسلم امہ کے حکمرانوں کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایمانی جذبے اور ایمانی قوت سے سرشار ہیں، حماس اور اہل غزہ کے مسلمان امت مسلمہ کے حکمرانوں سے سوال کرتے ہیں کہ تم بیت المقدس کی حفاظت کیلئے کیوں نہیں بولتے، امت مسلمہ کے حکمران خاموش رہ کر امریکا و اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں، شہادت مسلمانوں کیلئے امید کا پیغام ہے، جدوجہد و مزاحمت میں کوئی مایوسی اور ناامیدی نہیں ہے، عالمی دنیا کے نقاب اتر گئے جو انسانی حقوق اور حقوق نسواں، جانور کے حقوق کی بات کرنے والوں کو فلسطین میں ظلم کیوں نظر نہیں آ رہا، کہاں ہے او آئی سی اور کہاں ہے عرب لیگ، انہیں فلسطین میں جاری ظلم کیوں نظر نہیں آتا، ہم اہل غزہ و فلسطین کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی جاری رکھیں گے اور امت مسلمہ کے حکمرانوں کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔

علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ معصوم بچوں کے خون نے عالم اسلام کے مسلمانوں میں یکجہتی پیدا کی ہے، سامراج کی کوشش ہے کہ امت مسلمہ کی یکجہتی میں دراڑ ڈالی جائے، دنیا کی کوئی طاقت امت مسلمہ میں انتشار پیدا نہیں کر سکتی، جماعت اسلامی وہ جماعت ہے، جو اول روز سے بیت المقدس اور اہل غزہ کے ساتھ ہے، ہمارا فلسطینی بھائیوں سے ایمانی رشتہ ہے۔ سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ اہل غزہ و فلسطین میں رہنے والوں سے اظہار یکجہتی ہم سب پر واجب ہے، اہل غزہ کے مظلوم و نہتے فلسطینی مسلمان ایمان کی بدولت صیہونیوں سے مقابلہ کر رہے ہیں، ایمانی قوت سے سامراجی قوت کو پسپا کرنے پر مجبور کر رہی ہے، ہمیں اپنا دشمن صاف نظر آ رہا ہے، ایسا دشمن جو انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں کے حقوق کی بھی بات کرتا ہے، جان لیجیے کہ امریکا کبھی بھی ہمارا دوست نہیں بن سکتا، ہمیں اپنا حق ادا کرنا ہے۔ یونس سوہن ایڈوکیٹ نے کہا کہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے فلسطین میں جاری ظلم کے بارے میں دکھایا جا رہا ہے، مسلم امہ کے حکمرانوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، او آئی سی اور اقوام متحدہ کے ذمہ داران کو فلسطین میں جاری ظلم کیوں نظر نہیں آ رہا، کراچی میں بسنے والے مسیحی برادری اہل غزہ و فلسطین کے مسلمان کے ساتھ ہے، ہم فلسطینی بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ پاکستانی مسیحی برادری آپ کے ساتھ ہیں، ہم امریکا اور اسرائیل کے ویزے پر لعنت بھیجتے ہیں۔

آبش صدیقی نے کہا کہ ہم پاکستان کے علمائے کرام سے کہنا چاہتے ہیں کہ امت کا ایک ایک بچہ واقف ہے کہ امت پر جہاد فرض ہو چکا ہے، صرف اعلان نہیں بلکہ آرمی چیف کا نام لے کر کہا جائے کہ آپ حافظ تو ہیں اب مجاہد بن کر جہاد کا اعلان بھی کریں، اہلیان کراچی بائیکاٹ مہم جاری رکھیں، جو لکھ سکتا ہے وہ لکھے اور جو بائیکاٹ کر سکتا ہے، وہ بائیکاٹ کرے اور جو فنڈ جمع کر سکتا ہے وہ فنڈ جمع کرے۔ ”یکجہتی غزہ مارچ“میں ناظمہ کراچی جاوداں فہیم، نائب قیمہ پاکستان عطیہ نثار، ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، نائب ناظمہ صوبہ سندھ عذرا جمیل، نائب ناظمہ کراچی فرح عمران، شیبا طاہر، سمیہ عاصم، ندیمہ تسنیم، ہاجرہ عرفان، سیکریٹری اطلاعات کراچی ثمرین احمد اور دیگر خواتین ذمہ داران بھی موجود تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اہل غزہ و فلسطین کے مسلمان سے اظہار یکجہتی کی حافظ نعیم الرحم ن امریکا و اسرائیل فلسطینی بھائیوں یکجہتی غزہ مارچ انہوں نے کہا کہ کے حکمرانوں کو جماعت اسلامی امت مسلمہ کے کی تعداد میں کے مسلمانوں فلسطین میں پاکستان کے عالم اسلام کر رہے ہیں اہل غزہ کے اہل کراچی نہیں بلکہ کر دیا ہے ہوئے ہیں نہیں کر کریں گے اور اہل کے ساتھ رہا ہے ظلم کی ہیں کہ

پڑھیں:

اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔

مشیل باشیلے (چلی)

74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔

باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت  ہونی چاہیے۔

انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔

ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)

61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔

رافیل گروسی (ارجنٹائن)

65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔

گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔

وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)

70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔

2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ  کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔

گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)

52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ  دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

میکی سال (سینیگال)

64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔

ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انتخاب کا طریقۂ کار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم