Nawaiwaqt:
2026-07-24@13:05:01 GMT

22 اپریل کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT

22 اپریل کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

کراچی : جماعت اسلامی نے فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے 22 اپریل کو ملک بھرمیں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے 22 اپریل کوملک بھرمیں شٹرڈاؤن ہڑتال کا اعلان کردیا. حافظ نعیم نے کہا کہ 22اپریل کو فلسطینیوں سے یکجہتی کیلئے ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی، کراچی سے خیبر اور کشمیر سے گوادر سب بند ہوگا۔امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ 22 اپریل کو شٹر ڈاؤن کر کے بتائیں گے.

یکجہتی کسے کہتے ہیں، ڈیڑھ سال کے دوران فلسطینی بکے نہیں، مقابلہ کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ حماس کی تحریک اب کبھی ختم نہیں ہوسکتی. امریکا میں بھی 50 فیصد لوگ فلسیطنیوں اور حماس کے حامی ہوچکے، مفتی منیب اورمفتی تقی عثمانی نے فتویٰ دیا.تکلیف یہودی ایجنٹ کو ہو رہی ہے۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ لیاقت علی خان کو بھی کہا گیا تھا اسرائیل کو تسلیم کرلو بہت کچھ دیں گے، لیاقت علی خان نے قوم کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا ہم اپنی غیرت نہیں بیچیں گے۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ن لیگ، پی پی ، پی ٹی آئی والے غزہ کیلئے آواز اٹھائیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی آشیر باد کیلئے سب جماعتوں نے لائنیں لگائی ہوئی ہیں، جہاد کا فتویٰ ، بائیکاٹ مہم کے بعد سیاسی جماعتوں کے کچھ لوگوں نے مخالف مہم چلائی. طاغوت کا ہتھیار طاغوت کیخلاف استعمال کریں گے، تجارت نہیں کرنے دیں گے۔انھوں نے بتایا کہ 18 اپریل کو ملتان میں غزہ سے یکجہتی کیلئے مارچ ہوگا جبکہ 20 اپریل کو اسلام آباد میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مارچ ہوگا. ہو سکتا ہے حکمرانوں سے چھٹکارے کیلئے بھی کال دیں. وزیراعظم صاحب زبانی باتوں سے کام نہیں چلے گا، اجلاس بلا کر اعلانات کریں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اپریل کو

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان