صبح کا معمول وزن میں کمی پر بہت زیادہ اثر ڈال سکتا ہے۔ ایٹنگ ویل کے مطابق سینٹ جوزف یونیورسٹی کی ایم ایس سی، آر ڈی اور کنیکٹیکٹ میں ایک رجسٹرڈ غذائی ماہر میلیسا میتری کہتی ہیں کہ صبح کا ایک صحت مند معمول بنانا دن بھر فائدہ مند عادات کو جاری رکھنے کی رفتار پیدا کرتا ہے۔

ویب سائٹ ’’ ایٹنگ ویل‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق معروف غذائی ماہرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وزن میں کمی کو فروغ دینے اور دن کو اچھی صحت کے ساتھ شروع کرنے کے لیے صبح کے وقت کیا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے چار اہم اقدام کرنے چاہیں۔

1.

مناسب نیند
واضح رہے نیند کی کمی وزن میں کمی کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ تجویز کردہ سات گھنٹے سے کم نیند نہ صرف آپ کو سست محسوس کرتی ہے بلکہ نیند کی بے قاعدہ عادات بھوک میں اضافے، غیر صحت بخش کھانے کے انتخاب اور کیلوریز کی مجموعی مقدار میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ اگرچہ جلدی جاگنا تحریک پیدا کرکے کیلوری جلانے میں اضافہ کر سکتا ہے لیکن اگر کسی شخص کو کافی نیند نہیں آتی ہے تو یہ الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔

2. ایک گلاس پانی
جاگنے کے فوراً بعد ایک گلاس پانی پینے کی عادت ڈالنا آپ کو اپنے روزمرہ کے پانی کے اہداف کو حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے اور اس سے آپ کو وزن کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ "جاگنے کے 30 منٹ کے اندر ایک گلاس پانی پینا ہاضمہ کو بڑھاتا ہے، میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے اور پانی کی کمی کو روکتا ہے۔ پانی پینا کھانے کی خواہشات کو کم کر سکتا ہے اور باقی دن کے لیے صحت مند انتخاب کرنا آسان بنا سکتا ہے۔

3. پروٹین سے بھرپور ناشتہ
تحقیق مسلسل بتا رہی ہے کہ زیادہ پروٹین والی غذا زیادہ کھانے اور رات گئے ناشتے کو روک کر وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ پروٹین سے بھرپور ناشتے کے ساتھ دن کی شروعات آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرا ہونے کا احساس دلانے، خواہشات کو کم کرنے اور دن بھر کم کیلوریز کھانے میں مدد دے کر وزن کو کم کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ پروٹین سے بھرپور ناشتہ تیار کرنے کے لیے آپ کو انڈے، یونانی دہی، کاٹیج پنیر، گری دار میوے اور یہاں تک کہ پھلیاں بھی ناشنہ میں شامل کرنی چاہئیں۔

4. جسمانی سرگرمی
صبح کی ورزش آپ کو کئی طریقوں سے وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صبح کی ورزش چربی کو جلانے، میٹابولزم کو فروغ دینے اور بھوک پر قابو پانے کو بہتر بنا سکتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ صبح کی ورزش سے دن بھر میں کھانے کے مثبت انتخاب کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے مجموعی طور پر صحت مند عادات کو فروغ ملتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ

امپیریل کالج لندن کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انگلینڈ میں 20 سے 30 سال کے درمیان کی نوجوان خواتین میں ‘ٹائپ 2 ذیابیطس’ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ نیشنل ہیلتھ سروس کے 2011 سے 2024 تک کے اعداد و شمار کے تجزیے کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی وبا (کورونا) کے بعد موٹاپے کی شرح میں ہونے والا اضافہ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس ایک موذی مرض ہے جو دل کے دورے اور فالج جیسے شدید نوعیت کے طبی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ‘ذیابیطس یو کے’ نامی خیراتی ادارے کا کہنا ہے کہ جب یہ بیماری کم عمری میں لاحق ہوتی ہے تو اس کا رویہ زیادہ جارحانہ ہوتا ہے، جس سے انسانی اعضاء کو شدید نقصان پہنچنے اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت

ادارے کا کہنا ہے کہ طویل المدتی اعصابی و جسمانی نقصان سے بچنے کے لیے خطرے کی زد میں موجود افراد کی وقت پر تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس کو متوازن غذا اور وزن کنٹرول میں رکھ کر بغیر دواؤں کے بھی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صحت بخش غذا کے ساتھ ساتھ وزن کم کرنے والے جدید انجیکشنز اور ادویات (GLP-1) بھی اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تقریباً 60 لاکھ افراد ذیابیطس کے مریض ہیں جن میں سے 90 فیصد ‘ٹائپ 2’ کے شکار ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری زیادہ تر عمر رسیدہ افراد کو متاثر کرتی ہے اور نئے کیسز میں بڑا تناسب انہی کا ہے، تاہم اس وقت 30 سال سے کم عمر کے 12 ہزار افراد بھی اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے۔

بیماری کی اہم علامات

اس بیماری کی عام علامات میں شدید تھکاوٹ کا احساس ہونا، معمول سے زیادہ پیشاب آنا اور  مسلسل پیاس لگنا شامل ہیں۔

نوجوانوں اور خصوصاً خواتین میں تیز رفتار اضافہ

امپیریل کالج کے محققین نے انگلش نیشنل ذیابیطس آڈٹ کے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی عمر کے افراد میں اس بیماری کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے، لیکن 40 سال سے کم عمر افراد میں یہ گراف تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اضافہ 20 سے 29 سال کی خواتین میں دیکھا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی نوجوانوں میں ‘باڈی ماس انڈیکس’ (BMI) کی شرح میں بڑی عمر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو کہ اس بیماری کی بنیادی وجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ این ایچ ایس کے الگ ڈیٹا کے مطابق، انگلینڈ میں وبا کے بعد سے ہر 3 میں سے ایک شخص موٹاپے کا شکار ہے، اور 2019 سے 2025 کے درمیان 20 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں موٹاپے کے کیسز 16 فیصد جبکہ 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں تقریباً 20 فیصد بڑھے ہیں۔

ماہرین کی تشویش

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر شیوانی مشرا کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں کم عمری ہی سے شدید موٹاپے کا رجحان انہیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کی طرف دھکیل رہا ہے اور مریضوں کی اوسط عمر کو نیچے لا رہا ہے۔ کم عمری میں ذیابیطس کے بھیانک نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ صورتحال واقعی تشویشناک ہے۔

ڈاکٹر شیوانی کے مطابق پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ بیماری زیادہ تر اقلیتی نسلی گروہوں میں پھیل رہی ہے، لیکن نئے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اب گندمی اور سفید فام  آبادی بھی اس کی زد میں آ رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عام صحت کا ایک بڑا عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

احتیاطی تدابیر اور مزید تحقیقات

‘ذیابیطس یو کے’ نے زور دیا ہے کہ دورانِ حمل ‘جسٹیشنل ذیابیطس’ کا شکار ہونے والی ماؤں کی پیدائش کے بعد بہتر دیکھ بھال کی جائے، کیونکہ ان میں آگے چل کر ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد بھی ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تاہم اس حوالے حتمی شواہد سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذیابیطس ٹائپ 2

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا