ایئر فورس طیارہ کے ذریعے ایران سے 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور منتقل کی گئیں، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
فوٹو اسکرین گریب
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایئر فورس کے طیارہ کے ذریعے ایران سے 8 پاکستانیوں کی میتیں بہاولپور منتقل کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان ایئر فورس کا طیارہ ایران سے 8 پاکستانیوں کی میتیں لے کر بہاولپور پہنچا، پاکستانی شہریوں کی میتوں کو زاہدان سے بہاولپور منتقل کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 8 پاکستانی ایران کے علاقے سیستان میں دہشت گرد حملے کا نشانہ بنے تھے، میتوں کو ضروری میڈیکو لیگل عمل کی تکمیل کے بعد پاکستانی قونصل جنرل کے حوالے کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو کے مطابق بہاولپور کے 8 محنت کش پاکستانی ایران کے شہر مہرستان میں قتل ہوئے، جن میں محمد عامر، محمد دلشاد، محمد ناصر، ملک جمشید، محمد دانش، محمد نعیم، غلام جعفر اور محمد خالد شامل ہیں۔
کراچی ایران کے مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں ایک.
میتوں کو بہاولپور ایئرپورٹ سے ایمبولینسز کے ذریعے انکے آبائی علاقوں کو روانہ کیا گیا، دہشتگردی کا شکار بننے والے افراد موٹر مکینک تھے اور یہ ایران کے صوبے سیستان کی ایک ورکشاپ میں کام کرتے تھے۔
واضح رہے کہ ایران کے علاقے سیستان میں 12 اپریل کو قتل کیے گئے مزدوروں کا تعلق بہالپور کے نواحی علاقےخانقاہ شریف اور احمد پور شرقیہ سے تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حملوں میں زخمی امریکی فوجیوں میں سے 10 کو جرمنی منتقل کر دیا گیا۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں شدید زخمی ہونے والے تقریباً 10 امریکی فوجیوں کو علاج کے لیے جرمنی میں واقع امریکی فوجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق، یہ فوجی ان تقریباً 100 امریکی اہلکاروں میں شامل ہیں جو جولائی کے اوائل سے مختلف حملوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ زخمی ہونے والے بیشتر فوجیوں کو صرف معمولی دماغی چوٹیں آئی تھیں اور ان میں سے زیادہ تر اپنی ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔