گورنر پنجاب نے کاشتکاروں کو پیپلزپارٹی کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جڑانوالہ میں کسانوں اور کاشتکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ کاشتکاروں کو گندم کی پوری قیمت نہ ملنا بہت بڑاظلم ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیپلزپارٹی کاشت کاروں کی لڑائی بڑے ایوانوں میں لڑے گی اور ہم کسانوں کو اُن کے حقوق دلوائیں گے۔

سردار سلیم حیدر نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے لاہور نہیں بلکہ پورے پنجاب کے عوام کیلیے کھلے ہوئے ہیں۔  گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کسانوں کاشتکاروں، مزدوروں اورپسے ہوئے طبقے کے لیے قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کاشتکاروں کی لڑائی بڑے ایوانوں میں لڑے گی اوران کا جائز حق دلا کررہے گی۔  کسان پہلے ہی مہنگے بیج ،کھاد اوریگر زرعی ادویات مہنگی ہونے سے پریشان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کسان اور کاشتکار رل گئے ہیں، اس وقت ضرورت ہے کہ پیپلزپارٹی ان کا ساتھ دے۔ گورنر پنجاب نے یقین دہانی کروائی کہ بلاول بھٹو آپ سے ملیں گے اور آپ کے حقوق کی آواز بلند کریں گے۔ 

سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں جاکر بلاول بھٹو کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سردار سلیم حیدر گورنر پنجاب یقین دہانی نے کہا کہ

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا