برطانیہ: غریب طلباء جسمانی پسماندگی سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
برطانیہ کے اسکولوں میں سماجی و اقتصادی غربت سے منسوب طلباء میں “جسمانی پسماندگی” کے مشاہدے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
14,000 سے زائد افراد کے ساتھ کیے گئے سروے میں سامنے آیا ہے کہ پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والے پچاس فیصد سے زیادہ اساتذہ نے اس رجحان کو نوٹ کیا ہے، اس کے ساتھ ان خدشات کے ساتھ کہ فلاحی فوائد میں حالیہ کمی کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
کانفرنس میں شریک اساتذہ نے اس بات پر زور دیا کہ غربت کے منفی اثرات غذائیت کی کمی کے مسائل سے بڑھ کر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوائد کے نظام کو نیویگیٹ کرنے میں مدد کی اہم ضرورت کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں میں بستر اور کھانے کی میز جیسی ضروری گھریلو اشیاء کی کمی کو اجاگر کیا۔
برمنگھم میں خصوصی ضروریات والے اسکول کے سربراہ کیری آنسن نے کہا کہ حالات زندگی کی خرابی اور معذوری کے فوائد میں کٹوتیوں نے خصوصی تعلیمی ضروریات والے بچوں کے خاندانوں کے لیے زیادہ مشکلات پیدا کی ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔