مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں سیاحوں پر حملہ، دفتر خارجہ کا اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
دفتر خارجہ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پیش آنے والے حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس میں غیر ملکی سیاح نشانہ بنے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اننت ناگ کے علاقے میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں، جس میں سیاحوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ہم جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘
مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: نامعلوم افراد کا سیاحتی مقام پر حملہ، 27 افراد ہلاک
ترجمان نے واقعے کو انسانی جانوں کے ضیاع سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے سانحات سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستانی عوام نے بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا مسترد کردیا، ’انڈین فالس فلیگ آپریشن‘ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ
یاد رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں میں کشیدگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ پاکستان متعدد بار عالمی برادری سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اننت ناگ بھارت پاکستان خارجہ شفقت علی خان دفتر خارجہ مقبوضہ کشمیر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اننت ناگ بھارت پاکستان خارجہ شفقت علی خان دفتر خارجہ دفتر خارجہ اننت ناگ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔