بھارت کسی بھی جارحیت سے باز رہے، ہر بار چائے نہیں پلائیں گے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود حملہ کیسے ہوگیا؟ بھارتی فوج کی نااہلی پر سری نگر کے رہائشی بھی سوال اٹھا رہے ہیں، ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں اور ایسے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب سیدہ عظمی بخاری نے بھارتی میڈیا کے پاکستان کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈے پر ردعمل میں کہا ہے کہ پہلگام واقعہ افسوسناک ہے، معصوم شہریوں کے جانی نقصان کا سب کو دکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے، ہماری مسلح افواج اور بہادر عوام دشمن کو منہ توڑ جواب دینا جانتے ہیں، ہم ہر بار چائے نہیں پلائیں گے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود حملہ کیسے ہوگیا؟ بھارتی فوج کی نااہلی پر سری نگر کے رہائشی بھی سوال اٹھا رہے ہیں، ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں اور ایسے واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ انڈیا کا یہ پروپیگنڈہ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کسی بھی جارحیت سے باز رہے، جھوٹ کی بنیاد پر کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی فوج کی کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔