بھارت کی طرف سے اٹاری بارڈر بند کئے جانے کے بعد پاکستان نے بھی واہگہ سرحد بند کردی ہے. جس کے بعد بھارت سے پاکستانی اور یہاں سے بھارتی شہریوں کی اپنے ملک واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔بھارت کی طرف سے اچانک ویزے منسوخ ہونے کی وجہ سے کئی پاکستانی خاندانوں کو واہگہ بارڈر سے واپس لوٹنا پڑا جبکہ انڈیا سے پاکستان میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آنیوالی ایک سکھ فیملی بھی شادی کی تقریبات ادھوری چھوڑ کر واپس لوٹ گئی۔پاکستان اور بھارت کے درجنوں شہری روزانہ واہگہ /اٹاری بارڈر کے ذریعے ایک دوسرے ملک آتے جاتے ہیں لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور واہگہ اٹاری بارڈر بند ہونے سے مسافروں کی آمدورفت بند ہوگئی ہے۔جمعرات کے روز جہاں انڈیا سے 28 پاکستانی واپس لوٹے ہیں وہیں پاکستان میں مقیم 105 بھارتی شہری بھی واپس اپنے ملک لوٹ گئے۔بھارت نے عام ویزا کے حامل پاکستانیوں کو یکم مئی تک بھارت چھوڑنے کا کہا ہے جبکہ سارک ویزا کے حامل افراد کو 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔سبی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوخاندان کو بھی واہگہ بارڈر سے واپس لوٹنا پڑا۔ یہ خاندان اندور مدھیہ پردیش انڈیا جارہا تھا .

لیکن بھارت کی طرف سے بارڈ بند ہونے کے یہ خاندان انڈیا نہیں جاسکتے۔پاکستانی ہندو فیملی کے ممبر اکشے کمار نے بتایا ان کی فیملی کے 7  لوگ اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کے لئے جارہے تھے، وہ خوش تھے کہ اپنے خاندان سے مل سکیں گے اور شادی کی خوشیوں میں شریک ہوں گے .لیکن اب جب یہاں پہنچے ہیں تو معلوم ہوا انڈیا نے بارڈر بند کردیا ہے،اب رات ڈیرہ صاحب لاہور میں گزارنے کے واپس اپنے گھر لوٹ جائیں گے۔انڈیا سے پاکستان میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آنیوالی ایک سکھ فیملی بھی واپس لوٹ گئی، سکھ فیملی کے رکن سردار رمیندر سنگھ نے بتایا وہ انڈیا سے دلہا کے ساتھ یہاں پاکستان دلہن بیاہنے آئے تھے۔ شادی ہوگئی. لیکن ابھی کئی رسومات باقی تھیں۔جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ انڈیا نے بارڈر بند کردیا ہے تو وہ واپس جارہے ہیں۔ دلہا بھی چند روز تک واپس چلاجائیگا۔گھوٹکی سندھ سے تعلق رکھنے والا ایک ہندو خاندان جو نئی دہلی بھارت میں مقیم ہے۔ یہ خاندان واپس پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے آیا تھا ۔ تاہم جمعرات کو انہیں بھی بھارتی حکام کی طرف سے واپس انڈیا داخلے کی اجازت نہیں مل سکی۔ہندوفیملی کی رکن اندرا نے بتایا وہ پانچ لوگ جن میں ان کا کم سن بیٹا اوربیٹی جبکہ انکل اور آنٹی شامل ہیں یہ لوگ دوماہ قبل انڈیا سے واپس پاکستان آئے تھے۔ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں جبکہ انڈیا کی طرف سے انہیں نوری ویزا دیا گیا تھا .لیکن اب بھارتی حکام کی طرف سے انہیں واپس انڈیا جانے کی اجازت نہیں مل سکی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بھارت کی طرف سے پاکستان میں اٹاری بارڈر انڈیا سے واپس لوٹ شادی کی سے واپس

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا