اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے بھارت کو بھرپور جواب دیا۔ بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارتی بیان پر پاکستان نے عملی طور پر اقدامات کئے اور پاکستان کی فضائی حدود کو بھارتی طیاروں کے لئے بند کر دیا گیا۔ جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آج بھارت کے تمام اخبارات میں ہیڈ لائنز ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے لئے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہے۔ بھارت سے تجارت مکمل طور پر بند ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ کسی تیسرے ملک کے ذریعے بھی بھارت سے تجارت نہیں ہو سکتی۔ بھارت کے لئے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے بھارت میں فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔ بھارت میں متعدد فلائٹس منسوخ یا تبدیل ہوئی ہیں اور کچھ لمبے روٹس سے چل رہی ہیں۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان پرامن ملک ہے مگر کسی مس ایڈونچر کا بھرپور جواب دینا جانتا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ فالس فلیگ آپریشن کی شرمناک داستان سے بھارت کی عالمی سطح پر سبکی ہو رہی ہے۔  پاکستان کو بیانیہ کی جنگ میں سبقت حاصل ہے۔ پاکستانی ٹی وی چینلز، صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کا مشکور ہوں کہ انہوں نے یک زبان ہو کر بھارتی ایجنڈے کو بے نقاب کیا۔ بھارت کے سینئر صحافی سوشل میڈیا پر رونا رو رہے ہیں کہ بھارت کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے۔ بوکھلاہٹ میں بھارت نے ایک غلطی پر دوسری غلطی کی۔ پہلگام واقعہ کی ایف آئی آر عجلت میں درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ ضلع اننت ناگ، پہلگام پولیس سٹیشن، واقعہ دن ایک بجکر 50 منٹ پر شروع ہوا اور 2 بجکر 20 منٹ پر ختم ہوا اور ایف آئی آر 10 منٹ بعد 2 بجکر 30 منٹ پر درج کر دی گئی۔ عقل کے اندھوں کو بھی پتہ ہے کہ اس قسم کے واقعات کی تحقیقات ہوتی ہیں۔ بھارت نے عجلت میں قانون کو دیکھے بغیر یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا بیان دیا۔ پاکستان دو ٹوک کہہ چکا ہے کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے۔ پاکستان اس مسئلہ پر بھرپور طریقے سے جواب دے گا۔ بھارت اب پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بھارت نے بوکھلاہٹ میں اب جیلوں میں پاکستانی قیدیوں اور مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کا انکاؤنٹر کرنا شروع کر دیا ہے۔ بانڈی پورہ میں الطاف لالی اور اڑی سیکٹر میں محمد فاروق اور محمد دین کو شہید کیا گیا۔  بھارت کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے۔ فالس انکاؤنٹر کرنے سے بھارت کی بوکھلاہٹ مزید سامنے آ چکی ہے۔ بھارت پہلے بھی ایسے کام کرتا رہا ہے۔ بھارت دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کے خلاف پاکستان میں دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ ان کی بوکھلاہٹ کا اندازہ لگائیں کہ آج مدھیا پردیش میں ان کی اپنی فضائیہ نے غلطی یا تکنیکی خرابی کی وجہ سے اپنی ہی آبادی کو نشانہ بنایا۔ ان کی اہلیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اتنے اہل ہیں کہ اپنی ہی آبادی کو نشانہ بنا دیا۔ بھارتی فورسز کے پیشہ ورانہ امور زبوں حالی کا شکار ہیں۔ بھارت اپنے اس پائلٹ کو نہ بھولے جسے پاکستان میں چائے کا کپ پلا کر واپس بھیجا گیا تھا۔ بھارت کے مذموم مقاصد بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ نے کہا پاکستان کی بھارت کے کے لئے چکا ہے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا