مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے 2 مشتبہ عسکریت پسندوں کے گھر دھماکے سے اڑا دیے
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے 2 مشتبہ عسکریت پسندوں کے اہل خانہ کے گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا، بھارت کا الزام ہے کہ دونوں ایک ایسے گروہ میں شامل ہیں، جس نے دہائیوں میں متعدد مہلک ترین حملے کیے ہیں۔
نجی اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ مقامی پولیس حملہ آوروں پر ’پاکستانی عسکریت پسند تنظیموں‘ سے منسلک ہونے کا الزام عائد کرتی ہے، لیکن ان دونوں گھروں کو مسمار کرنا اس دعوے کے برعکس لگتا ہے۔
بھارتی حکام نے مطلوب پوسٹر جاری کیے، جن میں 3 افراد کے خاکے ہیں، جن کی شناخت بھارتی شہری عادل حسین ٹھوکر ، علی بھائی اور ہاشم موسیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
تاہم خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے خبر دی کہ پولیس ایک اور بھارتی شہری آصف شیخ کو بھی تلاش کر رہی ہے، ایک افسر اور مطلوب شہریوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ حملے کے بعد قریبی اہل خانہ کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔
آصف شیخ کی بہن یاسمینہ نے کہا کہ فوجیوں نے جمعرات سے جمعہ تک جنوبی ترال کے علاقے میں واقع گھر کے آس پاس کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
یاسمینہ نے صرف ایک نام بتاتے ہوئے بتایا کہ ’ایک فوجی ہمارے گھر کے احاطے کی دیوار پر چڑھ گیا، اور تھوڑی دیر بعد واپس چلا گیا تھا، تاہم کچھ ہی دیر بعد، ایک بڑے خوفناک دھماکے سے ہمارا گھر گر گیا۔
انہوں نے کہا کہ گھر کی ہر چیز تباہ ہو چکی ہے، اور اس وقت اندر کوئی نہیں تھا۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ فوجیوں نے جمعہ کی علی الصبح پڑوسی بجبہاڑہ علاقے میں ٹھوکر کے خاندانی گھر کو بھی اسی طرح تباہ کر دیا، پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس نامعلوم گروپ کا حصہ تھے، جسے بھارتی میڈیا ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ یعنی مزاحمتی محاذ (ٹی آر ایف) کے نام سے پکارتا ہے۔
ایک پولیس انٹیلی جنس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ دونوں عسکریت پسند 3 سے 4 سال سے سرگرم ہیں اور ٹی آر ایف کا حصہ ہیں۔
افسر نے مزید کہا کہ وہ مطلوب عسکریت پسند ہیں، جو پہلے بھی سیکورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بتایا کہ
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔