اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے کراچی سے پشاور تک شٹر ڈاﺅن ہڑتال، کاروباری مراکز بند
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )فلسطین بالخصوص اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے جماعت اسلامی اور تاجر تنظیموں کی ہڑتال کی کال پر ملک کے بیشتر شہروں میں کاروباری مراکز بند ہیں۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق راولپنڈی کے راجہ بازار، مری روڈ، صدر اور کمرشل مارکیٹ میں دکانیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ڈرگسٹ اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ہڑتال کی جا رہی ہے جس کے باعث بیشتر بازاروں میں میڈیکل سٹور بند ہیں۔
پاکپتن اور گردونواح میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ملکہ کوہسار مری میں اہل غزہ سے یکجہتی کے لئے مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال ہے، جماعت اسلامی کی شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی کال پر تمام کاروباری مراکز بند ہیں، مال روڈ، کینٹ مارکیٹ، بھوربن مارکیٹ، علیوٹ اور پھگواڑی سمیت تمام بازار اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی کم ہے۔
پشاور میں بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شٹرڈاﺅن ہڑتال کے باعث قصہ خوانی بازار، چوک یادگار، اشرف روڈ، چوک ناصر خان اور خیبر بازار میں دکانیں بند ہیں، اہم شاہراو¿ں پر چھوٹی بڑی مارکیٹیں اور شاپنگ مالز بھی بند ہیں۔
کوئٹہ میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی ہڑتال کی جا رہی ہے، شہر میں تمام اہم بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں۔مستونگ، قلات، خضدار اور پشین سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹرڈاو¿ن ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی جا رہی ہے، تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور دکانیں بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔
کراچی: 28 اپریل سے شروع ہونیوالے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات موخر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کاروباری مراکز بند ہیں ہڑتال کی جا رہی ہے سے اظہار یکجہتی
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔