اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )فلسطین بالخصوص اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیلئے جماعت اسلامی اور تاجر تنظیموں کی ہڑتال کی کال پر ملک کے بیشتر شہروں میں کاروباری مراکز بند ہیں۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق راولپنڈی کے راجہ بازار، مری روڈ، صدر اور کمرشل مارکیٹ میں دکانیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ڈرگسٹ اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ہڑتال کی جا رہی ہے جس کے باعث بیشتر بازاروں میں میڈیکل سٹور بند ہیں۔
پاکپتن اور گردونواح میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ملکہ کوہسار مری میں اہل غزہ سے یکجہتی کے لئے مکمل شٹر ڈاﺅن ہڑتال ہے، جماعت اسلامی کی شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی کال پر تمام کاروباری مراکز بند ہیں، مال روڈ، کینٹ مارکیٹ، بھوربن مارکیٹ، علیوٹ اور پھگواڑی سمیت تمام بازار اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی کم ہے۔
پشاور میں بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے شٹرڈاﺅن ہڑتال کے باعث قصہ خوانی بازار، چوک یادگار، اشرف روڈ، چوک ناصر خان اور خیبر بازار میں دکانیں بند ہیں، اہم شاہراو¿ں پر چھوٹی بڑی مارکیٹیں اور شاپنگ مالز بھی بند ہیں۔
کوئٹہ میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی ہڑتال کی جا رہی ہے، شہر میں تمام اہم بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں۔مستونگ، قلات، خضدار اور پشین سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شٹرڈاو¿ن ہڑتال کی جا رہی ہے۔
ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی جا رہی ہے، تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور دکانیں بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے۔

کراچی: 28 اپریل سے شروع ہونیوالے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات موخر

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کاروباری مراکز بند ہیں ہڑتال کی جا رہی ہے سے اظہار یکجہتی

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا