امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن ایکسپوز ہوگیا، بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا،پاکستان کشمیریوں کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑے۔

جماعت اسلامی کی کال پر غزہ کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں آج شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی کی اپیل کی جانے والی ہڑتال کی اپیل کے نتیجے میں کراچی تا پشاور تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر رہی، جبکہ ملک بھر کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی اصولی مخالفت پر قائداعظم کی مہر بھی ثبت ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

جماعت اسلامی کی کال پر لاہور میں انارکلی اور ملحقہ مارکیٹیں بھی بند ہیں، شاہ عالم مارکیٹ، برانڈرتھ روڈ، ہال روڈ اور ملحقہ مارکیٹیں بھی بند رہیں گی، ریڈی میڈ گارمنٹس، سولر مارکیٹ بھی بند ہے جبکہ شہر کی مرکزی غلہ منڈی بھی مکمل طور پر بند ہے۔

ادھر پشاور میں قصہ خوانی، خیبر بازار، پیپل منڈی، صدر، ہشت نگری اور دیگر اہم کاروباری علاقوں میں دکانیں بند ہیں جبکہ تنظیم تاجران کے مطابق رامپورہ گیٹ میں احتجاجی کیمپ بھی لگایا گیا۔

راولپنڈی کے راجہ بازار، مری روڈ، صدر اور کمرشل مارکیٹ میں دکانیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر ہے، ڈرگٹ اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ہڑتال کی جا رہی ہے جس کے باعث بیشتر بازاروں میں میڈیکل سٹورز بھی بند ہیں۔

پاکپتن اور گردونواح میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔

ملکہ کوہسار مری میں اہل غزہ سے یکجہتی کے لیے مکمل شٹر ڈاون ہڑتال ہے، جماعت اسلامی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر تمام کاروباری مراکز بند ہیں، مال روڈ، کینٹ مارکیٹ، بھوربن مارکیٹ، علیوٹ اور پھگواڑی سمیت تمام بازار اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 26 اپریل کو پورے ملک میں ہڑتال ہوگی، حافظ نعیم الرحمان کا اعلان

کوئٹہ میں بھی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ہڑتال کی جا رہی ہے، شہر میں تمام اہم بازار اور کاروباری مراکز بند ہیں، مستونگ، قلات، خضدار اور پشین سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی شٹرڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب کراچی میں کورنگی كراسنگ روڈ پر سیاسی جماعت کی جانب سے فلسطین کے حق میں دھرنا دیا جا رہا ہے جس کے باعث روڈ ٹریفک کے لیے بند ہے، مظاہرین کی جانب سے سڑکوں کو ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ دھرنے کے باعث روڈ بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کو گودام چورنگی اور ناصر جمپ سے چمڑا چورنگی بھیجا جا رہا ہے۔

جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آج ملک بھر میں اسرائیلی  مظالم کیخلاف  مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے، اسرائیل غزہ میں قتل عام کررہاہ، فلسطینیوں کے قتل عام سے غزہ میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حماس کی بجائے اسرائیل کی حمایت  کی جا رہی ہے جو  افسوسناک ہے، آج کی کامیاب ہڑتال نے ثابت کیا ہے کہ وہ غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ ہے، پاکستانی قوم فلسطینی  عوام اور کشمیریوں  کے ساتھ  ہے ۔

امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے اور پانی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کھبی بھی عمل نہیں کیا، لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں مگر ان کا کوئی ساتھ دینے  کے لیے کوئی تیار نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں؟ حافظ نعیم الرحمان نے تفصیلات بتا دیں

انہوں نے کہا کہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن ایکسپوز ہو گیا، سندھ طاس معاہدہ بھارت یکطرفہ طورپر ختم نہیں کرسکتا کیوں کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک ضامن ہے، پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کامقدمہ لڑے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل بھارت جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان غزہ ہڑتال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل بھارت جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان ہڑتال جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان حافظ نعیم الرحمان نے کاروباری مراکز بند جماعت اسلامی کی کی جا رہی ہے نے کہا کہ ہڑتال کی بند ہیں بھی بند کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی