سیما حیدر کو بے دخل نہ کریں‘‘ : راکھی ساونت کی دہائی
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
بالی ووڈ کی متنازع اداکارہ راکھی ساونت ایک بار پھر خبروں میں آگئی ہیں، اور اس بار وہ کھل کر سیما حیدر کی حمایت میں سامنے آئی ہیں۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی اپنی تازہ ویڈیو میں راکھی نے جذباتی انداز میں اپیل کی کہ سیما حیدر کو پاکستان واپس نہ بھیجا جائے کیونکہ اب وہ ’’بھارت کی بہو‘‘ بن چکی ہیں۔
راکھی ساونت نے اپنے بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ سیما حیدر کا ماضی چاہے پاکستان سے جڑا ہو، لیکن آج وہ ایک ہندوستانی مرد کے بچے کی ماں ہے، اور یہاں شادی کرچکی ہے۔
راکھی کے مطابق، کسی عورت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے کہ اسے زبردستی اپنے وطن واپس بھیجا جائے، خاص طور پر جب وہ نئی زندگی شروع کرچکی ہو۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ اگر سیما نے یہاں شادی نہ کی ہوتی یا بچے کو جنم نہ دیا ہوتا تو شاید بات کچھ اور ہوتی، لیکن اب جب کہ اس نے ایک ہندوستانی خاندان میں اپنی جڑیں گاڑ دی ہیں، اسے نکالنا سراسر ظلم ہوگا۔ راکھی ساونت نے زور دے کر کہا کہ سیما اب مذہب بھی تبدیل کرچکی ہیں، وہ مسلمان سے ہندو بن گئی ہیں اور سچن نامی بھارتی نوجوان سے شادی رچائی ہے۔
اپنے مخصوص انداز میں راکھی نے کہا، ’’سیما کوئی فٹ بال نہیں ہے جسے لات مار کر باہر نکال دیا جائے، وہ ایک عورت ہے، ایک ماں ہے۔ انسانیت کے ناتے اس کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔‘‘
یاد رہے کہ سیما حیدر 2023 میں پاکستان سے اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچی تھیں اور اتر پردیش کے رہائشی سچن کے عشق میں گرفتار ہو کر اس سے شادی کرلی تھی۔ رواں برس ان کے ہاں ایک بچے کی پیدائش بھی ہو چکی ہے۔
سیما حیدر کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے اور وہ پاکستان میں بھی شادی شدہ تھیں۔ تاہم بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات، جن میں پاکستانیوں کے ویزے منسوخ اور تین دن میں ملک چھوڑنے کے احکامات شامل ہیں، کے بعد سیما کی بے دخلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: راکھی ساونت کہ سیما
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔