پریش راول نے انکشاف کیا ہے کہ نانا پاٹیکر پہلے اداکار تھے جنہوں نے 1 کروڑ روپے کا معاوضہ طلب کیا تھا۔

معروف اداکار پریش راول نے حالیہ انٹرویو میں نانا پاٹیکر کی اداکاری اور ان کے منفرد انداز کی تعریف کرتے ہوئے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نانا پاٹیکر وہ پہلے کردار اداکار تھے جنہوں نے کسی فلم کے لیے 1 کروڑ روپے کا معاوضہ مانگا تھا، جو اس وقت کے حساب سے ایک بڑا قدم تھا۔

پریش راول نے یوٹیوب چینل The Lallantop کو دیے گئے انٹرویو میں ایک دلچسپ واقعہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پروڈیوسر تھا، جس کا وہ نام نہیں لے سکتے، ایک دن نانا نے اُسے اپنے گھر بلایا اور پوچھا، تم مٹن کھاتے ہو؟ پروڈیوسر نے ہاں کہا اور دونوں نے ساتھ مٹن کھایا۔ کھانے کے بعد نانا نے اُس سے کہا، کھا لیا؟ اب جا کر برتن دھو۔

A post common by Pinkvilla (@pinkvilla)

پریش راول نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا مزاحیہ انداز میں کہا، ’یہی ہے نانا پاٹیکر  باپ ہے وہ، بالکل الگ ہے۔‘

یہ واقعہ نہ صرف نانا پاٹیکر کے منفرد مزاج کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان کے بے ساختہ اور بےباک رویے کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جو شوبز انڈسٹری میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پریش راول نے

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق