Daily Ausaf:
2026-06-03@06:37:56 GMT

یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟

اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT

اہل علم وہ ہوتے ہیں جو حالات کے تیور دیکھتے ہوئے مستقبل کا اندازہ لگا لیتے ہیں ۔روبرو حقائق پر الفاظ کے غلاف چڑھانے کا ہنر رکھنے والے اہل قلم تو فقط فروغ منافقت کے آرزو مند ہوتے ہیں ،کیا ہونے والا ہے ،کون کرانے والا ہے ،کس کے رگ و پے میں کیا ہل چل شور مچائے ہوئے ہے ؟ یہ وہ دیکھ سکتا اور محسوس کرسکتا ہے جو یہ جانتا ہو کہ کاغذ کی کمانوں سے دانش کے تیر چلانے والے حسن تد بیر کا کتنا ملکہ رکھتے ہیں ؟ان سے زیادہ تو امیر شریعتؒ کے گھر کو جانے والی کوٹ تغلق شاہ کی گلی کے کونے پر بیٹھا جوتے گانٹھنے والا باباآگہی رکھتا ہے کہ انڈیا پاکستان کے درمیان اٹھنے والے تنازعے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟
اسے معلوم ہے کہ نوکر شاہی موجودہ حکومت کے ناز نخرے اٹھاتے ،اس کے وزراء کی نالائقیوں ،بے اعتدالیوں اور بد عنوانیوں پر پردے ڈالتے ہوئے کتنی ہلکان ہوچکی ہے ، وہ آشنا ہے کہ اشرافیہ کی چیرہ دستیاں کہاں پہنچ چکی ہیں وہ اس امر کا ادراک بھی رکھتا ہے کہ حکمرانوں نے مقتدرہ کو کس تحت الثری تک پہنچا دیا ہے کہ اس حوالے سے ہر زبان کا ذا ئقہ خراب ہو چکا ہے ۔دماغی ویرانیوں کا دور دورہ ہے ۔سنسنی پھیلانے والوں کا سکہ چل رہا ہے ۔کیوں نہ چلے کہ صحافیوں کی قلم رو میں تازہ دماغوں کا فقدان شدید تر ہوتا جا رہا ہے یہ پیشہ خود اپنے لئے ہر پل عذاب بنتا جارہا ہے ،جب غیر متعلقہ افراد تلاش پناہ میں غلط مقام کو اپنی چراہ گاہ بنالیں تو ایسا ہی ہوتا ۔
اس موضوع پر اتنا ہی کافی ہے۔سمجھنے والے اسی سے مطلب نکال لیں گے اور جنہوں نے ترد نہیں کرنا ان کا کیا ہی کہنا۔جب خودی یا انا متاع گم گشتہ ٹھہرے تو اس تہی دستی کے عالم میں قومی سالمیت کی ہوش بھی اڑ جاتی ہے ۔گو ہمارا دشمن بہت بڑا ہے مگر ہمارا اللہ اس سے بہت ہی بڑا ہے ،یہاں اہل خرد نے اللہ کو بیچ لانے کا بہت برا منانا ہے ،وہ اگر مصحف ربانی کو طاق نسیاں پر رکھ کر اس وقت تک ہاتھ نہیں لگاتے جب تک خود پر کوئی بڑی افتاد نہ ٹوٹے ،میرا اللہ تو اس صحیفے کا مصنف ہے میں اس سے اپنی اگلی نسل کے مستقبل کی بھیک کیوں نہ مانگوں ؟ کہ میرا دل مفادات و مراعات کے لئے نہیں دھڑکتا ،اس خطہ پاک کے لئے دھڑکتا ہے جو بے حس اور حریص حکمرانوں کے پنجہ استبداد میں ہے ،جس کا ذرہ ،ذرہ لہو کے آنسو رو رہا ہے ۔
جب کسی قوم کو فخر اور تیور کے ساتھ زندہ رہنا بھول جائے تو اس کی سزا غلامی ہی ہوتی ہے مگر شکر یہ ہے کہ ابھی وہ مقدس ہستیاں موجود ہیں جن کے وجود سے ہمارا دفاع وابستہ ہے مگر یہ گھمنڈ کب محافظ رہے گا ایک دن ہم اس سے بھی تہی دست ٹھہریں گے کہ ہم اپنے اللہ سے بھی فاصلے بڑھانے پر تلے ہوئے ہیں ۔
کل جوتے گانٹھنے والے بابا جی نے دفعتاً مجھے روک لیا ،فرمانے لگے ’’جب سے لوگوں کو اچھے جوتے رعایتی نرخوں پر نصیب ہونا شروع ہوئے ہیں مرمت کا کام رک گیا ہے ۔مگر ہم مایوس نہیں ہیں ،تم بھی حوصلہ رکھو اور کمر مضبوط کرو کوڑا پھر تیار ہے‘‘ ۔میرے استفسار سے پہلے وہ اپنے رخت کی بوری کندھے پر رکھے سڑک کے اس پار پٹھانوں کی کڑی میں غائب ہوگئے ۔
بابا سے جب بھی ملا ہوں انہیں آزردہ پایا ہے ۔ایک فقیر منش ، ایک الگ تھلگ دنیا کا آدمی، اسے کیوں کر یہ فکر لاحق ہے کہ اس کا ملک دکھوں کی سان پر چڑھا ہوا ہے ،وہ ذمہ داروں کا گلا کرتے ہوئے بھی ہچکچاتا ہے مگر اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہے ۔وہ کم گو ہے ،مجھے لگتا ہے کم کم لوگوں پر اپنا آپ کھولتا ہے مگرجب کھولتا ہے تو یوں لگتا ہے اس کے اندر سے ایک دھواں سا اٹھ رہا ہے ،وہ نہ جانے کتنے زخم خوردہ ہیں ،ان کے چہرے پر پڑی جھریوں میں کہانیاں ہی کہانیاں ہیں مگر وہ کبھی کوئی ایک کہانی بھی مکمل نہیں سنا پائے ۔
یوں بھی شام سے پہلے وہ اپنا سامان سمیٹے گم ہوجاتے ہیں ۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ رات کوان کی کہانیاں سننے والا کوئی نہیں، اور میری دادی اماں کہا کرتی تھیں کہ ’’ دن کو کہانی سنانے والا راستہ بھول جاتا ہے ۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: رہا ہے ہے مگر

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی