استعمال شدہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور پرنٹرزخریدنے کے خواہشمند افراد کے لئے بڑی خوشخبری آگئی۔

تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے مختلف ممالک سے آنے والے پرانے اور استعمال شدہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، پرنٹرز کی درآمد پر کسٹم ویلیوز میں نمایاں کمی کردی ہے۔سال 2025 کے ویلیویشن رولنگ 2000 کے تحت اعلان کردہ کمی موجودہ ویلیویشن فریم ورک کے وسیع جائزے کے بعد ہے، جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری تھا۔

کسٹم ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نئی اقدار کا مقصد مارکیٹ کے موجودہ رجحانات اور پرانے تکنیکی ماڈلز کی فرسودگی کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ ہونا ہے۔یہ فیصلہ درآمدی ڈیٹا کے تجزیہ اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ساتھ ہی پرانی ٹیکنالوجی کی گرتی ہوئی قیمتوں اور مارکیٹ میں استعمال شدہ الیکٹرانکس کی بڑھتی ہوئی دستیابی کے جواب میں کسٹم ویلیوایشن کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

نئے حکم نامے کے مطابق اب تمام ممالک سے آنے والے پرانے اور استعمال شدہ کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، پرنٹرز کی کم کی گئی کسٹمز قیمتیں ان کے پرزوں پر لاگو ہوں گی۔کسٹمز کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق لیپ ٹاپ، پرنٹرز اور اس کے پرزوں سمیت پرانے اور استعمال شدہ کمپیوٹرز کی درآمد پر ہوگا۔جس سے درآمد کنندگان کے لیے ایک انتہائی ضروری ریلیف ملے گا، جنہیں کسٹم کی پرانی قیمتوں کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

اس قدم کو مقامی ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے جو سستی ٹیکنالوجی کے لیے صارفین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے استعمال شدہ آلات کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں۔صنعت کے ماہرین نے اس نظرثانی کا خیرمقدم کیا ہے اور جیا اس سے نہ صرف لاگت کم ہوگی بلکہ مارکیٹ کی مسابقت میں بھی اضافہ ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: استعمال شدہ کمپیوٹرز لیپ ٹاپس کے لیے اور اس

پڑھیں:

چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں

یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔

یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔

فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔

واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں