وانا میں ایک امن کمیٹی کے دفتر کے باہر بم حملہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 اپریل 2025ء) مقامی پولیس اہلکار عثمان خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ مقامی قبائلی رہنما سیف الرحمان اپنے حجرے میں جرگہ کر رہے تھے کہ اچانک بم دھماکے نے تباہی مچا دی۔ انہوں نے کہا اس حملے میں کم ازکم سات افراد ہلاک جبکہ اکیس 21 زخمی ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے کی نوعیت فی الحال واضح نہیں۔
ایک سینئر انتظامی اہلکار نے بھی اے ایف پی سے اس حملے اور جانی نقصان کی تصدیق کی اور بتایا کہ سیف الرحمان کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
جنوبی وزیرستان افغانستان سے ملحق سات قبائلی اضلاع میں سے ایک ہے، جو کئی برسوں تک شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے۔ فوج اس علاقے میں متعدد کارروائیاں کر چکی ہے۔
پاکستان کی نے ماضی میں مقامی قبائلی امن کمیٹیاں تشکیل دی تھیں تاکہ وہ شدت پسندوں، خصوصاً پاکستان طالبان کے خلاف اپنے علاقوں کا دفاع کریں۔
(جاری ہے)
ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال میں مجموعی طور پر بہتری اور فوجی آپریشنز کے بعد سے ایسی بیشتر امن کمیٹیاں تحلیل ہو چکی ہیں۔
تاہم سن 2021 میں کابل میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد سے پاکستان کو شدت پسندی میں اضافے کا سامنا ہے۔ اسلام آباد حکومت کا دعویٰ ہے کہ شدت پسند اب افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہاں سے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائیاسلام آباد میں قائم سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کے لیے تقریباً ایک دہائی کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا۔ اس سال بیشتر حملے مغربی سرحدی علاقوں میں ہی کیے گئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس تازہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پرتشدد کارروائیاں ریاست کے حوصلے پست ہرگز نہیں کر سکتی ہیں۔
ادھر پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعوی کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں ایک آپریشن میں کم ازکم 17 شدت پسند ہلاک کر دیے گئے ہیں۔
اس بیان کے مطابق ستائیس اور اٹھائیس اپریل کی درمیانی رات پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب حسن خیل نامی علاقے میں سکیورٹی فورسرز نے ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ان جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین دنوں میں کیے جانے والے مختلف آپریشنز میں مجموعی طور پر 71 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
ادارت: امتیاز احمد
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔