سٹی 42 :  پشاور میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے وکیل میاں جمال شاہ کو قتل کردیا، جس کے بعد خیبر پختونخوا بار کونسل نے واقعے کے خلاف کل پورے صوبہ میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

 پشاور کے علاقے رحمان آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے وکیل میاں جمال شاہ کو قتل کردیا ۔ 

پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ تھانہ انقلاب کی حدود رحمان آباد میں پیش آیا جہاں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے وکیل میاں جمال شاہ کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

دو روز کے لئے جنگ بندی کا اعلان ک

مقتول کے بیٹے نے پولیس کو بتایا کہ والد کے ہمراہ گاڑی میں  شادی ہال سے واپس آرہے تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی ۔ 

پولیس نے مقتول کے بیٹے میاں ثاقب شاہ کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔

خیبرپختونخوا بار کونسل نے وکیل میاں جمال شاہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کے خلاف کل پورے صوبہ میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

خیبرپختونخوا بار ایسوسی ایشن کے جاری علامیے کے مطابق کل پورے صوبے میں کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوگا، قتل کا واقعہ افسوسناک ہے، ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے۔

دہشتگردوں کیجانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے؛ شیری رحمان

خیبرپختونخوا بار کونسل کی وکیل میاں جمال شاہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں پشاور ہائیکورٹ کے گیٹ کے سامنے فائرنگ کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔

کے پی بار کی جانب سے بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور میں امن وامان کی صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے، پولیس امن و امان صورتحال کو بحال کرنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: نامعلوم افراد نے فائرنگ بار کونسل کا اعلان

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن