مشترکہ مفادات کونسل نےنئی نہریں نکالنے کا منصوبہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
سٹی42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ مسترد کردیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزرا اسحاق ڈار، خواجہ آصف اور امیر مقام شریک ہوئے۔کونسل کے اجلاس میں 25 افراد نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔
دو روز کے لئے جنگ بندی کا اعلان ک
مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 6 نکاتی ایجنڈے پرغورکیاگیا۔کونسل نئی نہریں نکالنے کے منصوبے پر حکومت سندھ کے ایجنڈا آئٹم پر غور کیا۔
مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنےکا منصوبہ مسترد کردیا۔کونسل نے کینالز سے متعلق ایکنک کا 7 فروری کا فیصلہ مسترد کیا، معاملہ دوبارہ ارسا کو بھجوایا جائےگا۔
مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس کااعلامیہ
مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس کااعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔
دہشتگردوں کیجانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے؛ شیری رحمان
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا52 واں اجلاس ہوا۔کونسل نے پہلگام حملےکےبعد بھارتی یکطرفہ غیرقانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی۔ کونسل نے ممکنہ بھارتی جارحیتاور مس ایڈونچر کے تناظر میں ملک و قوم کے لیے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
مشترکہ مفادات کونسل کا کہنا ہےکہ پاکستان پرامن اور ذمہ دار ملک ہے، ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھارتی اقدامات کےخلاف وفاقی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا رہنےکا عزم کیا۔
وانا میں دھماکہ، وزیرداخلہ کا قیمتی انسانی جانوں کےضیاع پر اظہارِ افسوس
اعلامیے میں کہا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیرکوئی نیا نہری منصوبہ شروع نہیں کیا جائےگا، تمام صوبوں کےدرمیان مفاہمت کے بغیر وفاقی حکومت اس سلسلے میں مزید پیشرفت نہیں کرےگی۔
وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مل کر زرعی پالیسی کا روڈ میپ تیارکر رہی ہے، حکومت ملک میں آبی وسائل کےانتظامی ڈھانچےکی ترقی کےلیےطویل المدتی متفقہ روڈمیپ تیار کر رہی ہے، تمام صوبوں کے پانی کے حقوق1991کے پانی کی تقسیم کے معاہدے میں محفوظ ہیں، یہ حقوق2018کی پانی پالیسی میں فریقین کی رضامندی کے ساتھ محفوظ کیے گئے ہیں۔
ڈالر کی قیمت میں اضافہ
اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبوں کے تحفظات دورکرنے اور غذائی وماحولیاتی سلامتی کویقینی بنانےکے لیے کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، کمیٹی میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، کمیٹی طویل المدتی زرعی اور صوبوں کی آبی ضروریات کے حل تجویز کرے گی، تجویز کیے گئے حل دونوں متفقہ دستاویزات کے مطابق ہوں گے، نئی نہروں کی تعمیرکےلیے7فروری 2024 کوایکنک کی منظوری کو واپس لیا جائے گا، 17 جنوری 2024 کےاجلاس میں اس سے متعلق ارساکا سرٹیفکیٹ واپس لیاجائےگا۔
نواز شریف آئی ٹی سٹی منصوبے کے انفراسٹرکچر منصوبے کی تعمیر میں بڑی پیشرفت
پانی ایک قیمتی اثاثہ ہے، آئین سازوں نےلازمی قرار دیا ہےکہ پانی سے متعلق تنازعات افہام وتفہیم سے حل کیے جائیں،کسی بھی صوبےکے تحفظات کو تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے دورکیا جائےگا، سندھ طاس معاہدےکی معطلی اور پانی روکنے کی صورت میں پاکستان اپنےآبی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
یہ اجلاس 2 مئی کو ہونا تھا لیکن حکومت سندھ کی گزارش پر وزیراعظم نے آج اجلاس طلب کیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ سندھ کے عوام کے لیے خوشخبری ہے ارسا سے خط واپس لے لیا گیا ہے، تمام صوبوں کو پانی کے حقوق دیے جانے کے حق کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے، دریائے سندھ پر نہریں بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔
اجلاس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی ملاقات ہوئی۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مشترکہ مفادات کونسل صوبوں کے کونسل کے کونسل نے گیا ہے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔