سٹی42:   وزیراعظم  شہباز  شریف کی زیر صدارت  مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ مسترد کردیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزرا  اسحاق ڈار، خواجہ  آصف  اور امیر مقام شریک ہوئے۔کونسل کے اجلاس میں 25 افراد  نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔

دو روز کے لئے جنگ بندی کا اعلان ک

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں 6 نکاتی ایجنڈے پرغورکیاگیا۔کونسل نئی نہریں نکالنے کے منصوبے  پر حکومت سندھ کے ایجنڈا آئٹم پر غور کیا۔

مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ سے نئی نہریں نکالنےکا منصوبہ  مسترد کردیا۔کونسل نے کینالز سے متعلق ایکنک کا 7 فروری کا فیصلہ مسترد کیا، معاملہ دوبارہ ارسا کو بھجوایا جائےگا۔

مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس کااعلامیہ 
مشترکہ مفادات کونسل کےاجلاس کااعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

دہشتگردوں کیجانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے؛ شیری رحمان

اعلامیے کے مطابق  وزیراعظم کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا52 واں اجلاس ہوا۔کونسل نے پہلگام حملےکےبعد بھارتی یکطرفہ غیرقانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی۔ کونسل نے ممکنہ بھارتی جارحیتاور مس ایڈونچر کے تناظر میں ملک و قوم کے لیے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔

مشترکہ مفادات کونسل کا کہنا ہےکہ پاکستان پرامن اور ذمہ دار ملک ہے، ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھارتی اقدامات کےخلاف وفاقی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا  رہنےکا عزم کیا۔

وانا میں دھماکہ، وزیرداخلہ کا قیمتی انسانی جانوں کےضیاع پر اظہارِ افسوس

  

اعلامیے میں کہا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیرکوئی نیا نہری منصوبہ شروع نہیں کیا جائےگا، تمام صوبوں کےدرمیان مفاہمت کے بغیر وفاقی حکومت اس سلسلے میں مزید پیشرفت نہیں کرےگی۔

  وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مل کر زرعی پالیسی کا روڈ میپ تیارکر رہی ہے،  حکومت ملک میں آبی وسائل کےانتظامی ڈھانچےکی ترقی کےلیےطویل المدتی متفقہ روڈمیپ تیار کر رہی ہے، تمام صوبوں کے پانی کے حقوق1991کے پانی کی تقسیم کے معاہدے میں محفوظ ہیں،  یہ حقوق2018کی پانی پالیسی میں فریقین کی رضامندی کے ساتھ محفوظ کیے گئے ہیں۔

ڈالر کی قیمت میں اضافہ

اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبوں کے تحفظات دورکرنے اور غذائی وماحولیاتی سلامتی کویقینی بنانےکے لیے کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، کمیٹی میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، کمیٹی طویل المدتی زرعی اور صوبوں کی آبی ضروریات کے حل تجویز کرے گی، تجویز کیے گئے حل دونوں متفقہ دستاویزات کے مطابق ہوں گے، نئی نہروں کی تعمیرکےلیے7فروری 2024 کوایکنک کی منظوری کو  واپس لیا جائے گا، 17 جنوری 2024 کےاجلاس میں اس سے متعلق ارساکا سرٹیفکیٹ واپس لیاجائےگا۔

نواز شریف آئی ٹی سٹی منصوبے کے انفراسٹرکچر منصوبے کی تعمیر میں بڑی پیشرفت

 پانی ایک قیمتی اثاثہ ہے، آئین سازوں نےلازمی قرار دیا ہےکہ پانی سے متعلق تنازعات افہام وتفہیم سے حل کیے جائیں،کسی بھی صوبےکے تحفظات کو تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے دورکیا جائےگا، سندھ طاس معاہدےکی معطلی اور  پانی روکنے کی صورت میں پاکستان اپنےآبی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔

یہ اجلاس 2 مئی کو ہونا تھا لیکن حکومت سندھ کی گزارش پر وزیراعظم نے آج اجلاس طلب کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ  سندھ کے عوام کے لیے خوشخبری ہے ارسا سے خط واپس لے لیا گیا ہے، تمام صوبوں کو پانی کے حقوق دیے جانے کے حق کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے، دریائے سندھ پر نہریں بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔

اجلاس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف  سے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی ملاقات ہوئی۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مشترکہ مفادات کونسل صوبوں کے کونسل کے کونسل نے گیا ہے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن