Daily Ausaf:
2026-06-03@06:50:42 GMT

بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کا موثر ردعمل

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

1947 ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے۔ کشمیر کا تنازع، سرحدی جھڑپیں، جنگیں، اور باہمی بداعتمادی نے ان دونوں ایٹمی ممالک کو ہمیشہ ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا اور تب سے اب تک کشمیری عوام آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ 1960 ء میں ورلڈ بینک کی معاونت سے ہونے والا سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک بین الاقوامی معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا:ستلج، بیاس اور راوی بھارت کو دیئے گئے، جبکہ تین مغربی دریا‘سندھ، جہلم، چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔
اگرچہ یہ معاہدہ کئی دہائیوں تک چلا، بھارت نے بارہا اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی دریائوں پر ڈیم بنانے شروع کیے اور پانی کے بہا میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ہر سطح پر ان خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی، مگر بھارتی ہٹ دھرمی اپنی جگہ برقرار رہی اور حالیہ دنوں میں آبی جارحیت کی نئی لہر نے ایک بار پھر خطے کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے صرف پاکستان کی خودمختاری کا دفاع نہیں بلکہ ایک مضبوط اور مربوط قومی موقف کی عکاسی بھی ہیں۔پہلگام میں ہونے والے فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت نے حسبِ روایت بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ یہ الزام نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک ناکام کوشش بھی ہے۔ بھارتی میڈیا اور حکومت نے ایک بار پھر پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا اور ساتھ ہی آبی جارحیت کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی حکومت، عسکری قیادت، اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز نے بھارت کو موثر جواب دینے کا فیصلہ کیاکہ پاکستان اپنے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق‘ واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔بھارت کے ساتھ تمام تجارتی روابط معطل کر دیے گئے۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے راستے ہونے والی ٹرانزٹ تجارت بھی بند کر دی گئی۔بھارتی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی۔تمام بھارتی دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔سارک ویز اسکیم کو معطل کرتے ہوئے تمام بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے میں پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی، تاہم سکھ برادری کو اس سے استثنی حاصل ہے۔یہ تمام فیصلے ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان اب محض بیانات سے آگے نکل چکا ہے اور قومی سلامتی و خودمختاری کے دفاع کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔یہ فیصلے نہ صرف قوم کی آواز ہیں بلکہ ایک بھرپور اور متوازن ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ محض زبانی احتجاج پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنے حقِ خود ارادیت، پانی، اور سرزمین کا دفاع کرے گا۔پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حالیہ اقدامات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت دشمن کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی مہم جوئی کو برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کی حالیہ حکمتِ عملی بھارت کی مہم جوئی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے مقابلے میں نہایت مربوط اور موثر دکھائی دیتی ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان مخالف بیانیہ تیار کرتا ہے۔ چاہے وہ کسانوں کے احتجاج ہوں یا اقلیتوں پر مظالم، بھارت کی قیادت ان حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو نشانہ بناتی ہے۔تاہم اس بار پاکستان نے صرف الفاظ پر انحصار نہیں کیا بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم نہ صرف تیار ہیں بلکہ ہر جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی برادری کو بھی یہ باور کروانا ضروری ہے کہ امن صرف تب قائم رہ سکتا ہے جب انصاف اور برابری کے اصولوں کو اپنایا جائے۔ بھارت کی طرف سے آبی جارحیت نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ایک ایسا قدم ہے جو خطے کو مکمل جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
پاکستان کا یہ موقف کہ’’پانی پر حملہ اعلانِ جنگ ہے‘‘ ، بین الاقوامی قانون اور علاقائی استحکام کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اس مقف سے نہ صرف قوم کو اعتماد ملا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے، جو خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ تاہم یہ امن کمزوری کی بنیاد پر نہیں بلکہ برابری، احترام اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔ اس نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہماری افواج، ہماری قوم، اور ہماری قیادت ہر وقت اپنے وطن کے دفاع کے لیے تیار ہے۔آج کا پاکستان نہ صرف اندرونی طور پر متحد ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک متوازن، بردبار اور مضبوط کردار کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے بجائے اپنے مسائل پر توجہ دے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مثبت اقدامات کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: آبی جارحیت پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان کی بھارت کو بھارت کی ہیں بلکہ ہے بلکہ کرے گا کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی