Daily Ausaf:
2026-07-24@09:59:03 GMT

بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کا موثر ردعمل

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

1947 ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات کبھی بھی خوشگوار نہیں رہے۔ کشمیر کا تنازع، سرحدی جھڑپیں، جنگیں، اور باہمی بداعتمادی نے ان دونوں ایٹمی ممالک کو ہمیشہ ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا اور تب سے اب تک کشمیری عوام آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ 1960 ء میں ورلڈ بینک کی معاونت سے ہونے والا سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک بین الاقوامی معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت تین مشرقی دریا:ستلج، بیاس اور راوی بھارت کو دیئے گئے، جبکہ تین مغربی دریا‘سندھ، جہلم، چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔
اگرچہ یہ معاہدہ کئی دہائیوں تک چلا، بھارت نے بارہا اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی دریائوں پر ڈیم بنانے شروع کیے اور پانی کے بہا میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی۔ پاکستان نے ہر سطح پر ان خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی، مگر بھارتی ہٹ دھرمی اپنی جگہ برقرار رہی اور حالیہ دنوں میں آبی جارحیت کی نئی لہر نے ایک بار پھر خطے کو شدید کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے صرف پاکستان کی خودمختاری کا دفاع نہیں بلکہ ایک مضبوط اور مربوط قومی موقف کی عکاسی بھی ہیں۔پہلگام میں ہونے والے فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت نے حسبِ روایت بغیر کسی ثبوت کے اس حملے کا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔ یہ الزام نہ صرف مضحکہ خیز ہے بلکہ عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک ناکام کوشش بھی ہے۔ بھارتی میڈیا اور حکومت نے ایک بار پھر پاکستان مخالف پروپیگنڈا شروع کر دیا اور ساتھ ہی آبی جارحیت کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کی حکومت، عسکری قیادت، اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز نے بھارت کو موثر جواب دینے کا فیصلہ کیاکہ پاکستان اپنے قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق‘ واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔بھارت کے ساتھ تمام تجارتی روابط معطل کر دیے گئے۔ بھارت اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے راستے ہونے والی ٹرانزٹ تجارت بھی بند کر دی گئی۔بھارتی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کر دی گئی۔تمام بھارتی دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔سارک ویز اسکیم کو معطل کرتے ہوئے تمام بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے میں پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی، تاہم سکھ برادری کو اس سے استثنی حاصل ہے۔یہ تمام فیصلے ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان اب محض بیانات سے آگے نکل چکا ہے اور قومی سلامتی و خودمختاری کے دفاع کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔یہ فیصلے نہ صرف قوم کی آواز ہیں بلکہ ایک بھرپور اور متوازن ردعمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ محض زبانی احتجاج پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنے حقِ خود ارادیت، پانی، اور سرزمین کا دفاع کرے گا۔پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حالیہ اقدامات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت دشمن کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی قسم کی مہم جوئی کو برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کی حالیہ حکمتِ عملی بھارت کی مہم جوئی اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے مقابلے میں نہایت مربوط اور موثر دکھائی دیتی ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے فالس فلیگ آپریشنز اور پاکستان مخالف بیانیہ تیار کرتا ہے۔ چاہے وہ کسانوں کے احتجاج ہوں یا اقلیتوں پر مظالم، بھارت کی قیادت ان حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کو نشانہ بناتی ہے۔تاہم اس بار پاکستان نے صرف الفاظ پر انحصار نہیں کیا بلکہ اپنی خودمختاری کا تحفظ کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم نہ صرف تیار ہیں بلکہ ہر جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی برادری کو بھی یہ باور کروانا ضروری ہے کہ امن صرف تب قائم رہ سکتا ہے جب انصاف اور برابری کے اصولوں کو اپنایا جائے۔ بھارت کی طرف سے آبی جارحیت نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ ایک ایسا قدم ہے جو خطے کو مکمل جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
پاکستان کا یہ موقف کہ’’پانی پر حملہ اعلانِ جنگ ہے‘‘ ، بین الاقوامی قانون اور علاقائی استحکام کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ اس مقف سے نہ صرف قوم کو اعتماد ملا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے۔پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے، جو خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ تاہم یہ امن کمزوری کی بنیاد پر نہیں بلکہ برابری، احترام اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔ اس نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کیا ہے۔بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہماری افواج، ہماری قوم، اور ہماری قیادت ہر وقت اپنے وطن کے دفاع کے لیے تیار ہے۔آج کا پاکستان نہ صرف اندرونی طور پر متحد ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک متوازن، بردبار اور مضبوط کردار کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے بجائے اپنے مسائل پر توجہ دے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مثبت اقدامات کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: آبی جارحیت پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان کی بھارت کو بھارت کی ہیں بلکہ ہے بلکہ کرے گا کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا