Express News:
2026-06-03@05:02:35 GMT

گھریلو پلاسٹک لاکھوں اموات کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

گھریلو پلاسٹکس جو پانی کی بوتلوں، کھانے کی پیکیجنگ، شیمپو اور کھلونوں میں پایا جاتا ہے، تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں دل کی بیماریوں کیوجہ سے موت کا سبب بن سکتا ہے۔

ای بائیو میڈیسن جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں صحت کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ ان پلاسٹکس نے 2018 میں 55 سے 64 سال کی عمر کے مردوں اور عورتوں میں 368,764 کیسز میں دل کی بیماریوں سے ہونے والی تمام اموات میں 13% کردار ادا کیا۔ ان اموات میں سے تقریباً 10% امریکا میں ہوئیں۔

نیو یارک یونیورسٹی گراسمین اسکول آف میڈیسن کی ایک ایسوسی ایٹ ریسرچ سائنسدان سارہ ہیمن نے ایک بیان میں کہا، "دنیا بھر میں پلاسٹک اور موت کی سب سے بڑی وجہ یعنی دل کی بیماری کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے، ہمارے نتائج اس بات کے وسیع ثبوت پیش کرتے ہیں کہ یہ کیمیکلز انسانی صحت کے لیے زبردست خطرہ ہیں۔

محققین کے مطابق، تقریباً 75 فیصد اموات ترقی پذیر ممالک میں ہوئیں جن میں ایشیا، مشرق وسطیٰ اور بحر الکاہل شامل ہیں۔

گروسمین اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر اور مطالعہ کے مصنفین میں سے ایک لیونارڈو ٹراسانڈے نے کہا، "ہم اعلی آمدنی والے ممالک میں پلاسٹک کو ایک مسئلہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جو کچھ ہم جغرافیائی طور پر پیٹرن میں دیکھ رہے ہیں وہ پریشان کن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ 

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔

حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔

پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق