خالصتان تحریک کے مرکزی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک دھماکہ خیز بیان میں کہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملے کی حماقت کی، تو یہ مودی اور بھارت کی آخری جنگ ثابت ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی پنجاب پاکستان کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی بن کر کھڑا ہے اور اس جنگ کے نتیجے میں بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کر کے ایک نیا ملک، خالصتان، قائم ہوگا۔

گرپتونت پنوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کو خالصتان ریفرنڈم کی باقاعدہ تحریک پیش کرنی چاہیے تاکہ دنیا سکھوں کی آزادی کی خواہش کو تسلیم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو بھارتی پنجاب میں پاکستان آرمی کے لیے لنگر لگائیں گے اور بھارتی فوج کا ہم سامنا کریں گے۔

تحریک خالصتان کے رہنما نے انکشاف کیا کہ مقبوضہ بھارتی پنجاب کے کینٹ ایریاز میں وال چاکنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس میں لکھا جا رہا ہے ”سکھ پاکستان کے خلاف نہ لڑیں۔“ انہوں نے کہا کہ سکھ قوم بھارت کی اس جارحیت کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ ظلم کے خلاف کھڑی ہوگی۔

پنوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں بھارت کے اندر آزادی کی تحریکیں شدت اختیار کر رہی ہیں، اور مودی حکومت کی پالیسیوں نے پورے ملک کو آگ میں جھونک دیا ہے۔ خالصتان کے قیام کا وقت قریب آ چکا ہے اور اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو یہ اس کے وجود کے خاتمے کا آغاز ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی

افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور

بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔

یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی