سیکورٹی وجوہات‘پی آئی اے کی گلگت اور سکردو کے لیے کے پروازیں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اپریل ۔2025 )قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی گلگت اور سکردو کے لیے کے پروازیں سیکورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ کردی گئی ہیںترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ خان نے بتایا کہ بدھ کے روز سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پروازیں منسوخ کی گئیںکل سے تمام پی آئی اے پروازوں کی گلگت اور سکردو روانگی معمول کے مطابق متوقع روانہ ہونگی ہے.
(جاری ہے)
ادھرگلگت ائیر پورٹ پر حکام کا کہنا ہے کہ تمام کمرشل پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں حکام کے مطابق تمام پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اس کے علاوہ سکردو ائیر پورٹ پر بھی پی آئی اے کی تینوں فلائٹس منسوخ ہو گئیں ہیں. پی آئی اے کا کہنا ہے کہ اس نے آپریشنل وجوہات کے باعث سکردو کی فلائٹس منسوخ کی ہیں سکردو ائیرپورٹ سے صرف ائیر بلیو کی فلائٹ واپس اسلام آباد آئی ہے دوسری جانب پاکستان ٹیلی ویژن نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ 29 اور 30 اپریل کی درمیانی شب چار انڈین رافیل طیارے لائن آف کنٹرول کے قریب پیٹرولنگ کر رہے تھے جس پر پاکستان ایئر فورس کے طیاروں نے انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پی آئی اے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔