اسلام محنت کشوں کے حقوق کا درس دیتا ہے، گلبر خان
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے محدود وسائل کے باوجود حکومت نے اپنے دیگر اخراجات کو کم کرکے مزدور کی کم از کم اجرت کو 37 ہزار کیا اور تمام عارضی ملازمین کو اس کی ادائیگی یقینی بنائی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خا ن نے مزدوروں کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ اسلام سماجی انصاف کے اصولوں اور محنت کشوں کے حقوق کا درس دیتا ہے۔ یکم مئی ان مزدوروں کی قربانیوں اور عزم کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے اور کام کے منصفانہ ماحول کیلئے اپنی جانیں قربان کیں۔ آج کا دن محنت کشوں کی عظمت کی علامت ہونے کے ساتھ یہ موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ اپنے محنت کشوں کے قومی تعمیر کیلئے انمول خدمات کا اعتراف کریں۔ نبی کریم (ص) کی کئی احادیث میں محنت کشوں کے حقوق، ان کو مناسب معاوضہ کی ادائیگی اور محنت کش طبقہ کے ساتھ منصفانہ سلوک کو یقینی بنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم اس امر کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات سے محنت کشوں سمیت آبادی کے تمام طبقات خوشحال ہوں۔ حکومت گلگت بلتستان نے محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سوشل پروٹیکشن پالیسی منظور کی ہے۔ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے اپنے دیگر اخراجات کو کم کرکے مزدور کی کم از کم اجرت کو 37 ہزار کیا اور تمام عارضی ملازمین کو اس کی ادائیگی یقینی بنائی۔ مستقبل میں بھی گلگت بلتستان میں محنت کشوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس حوالے سے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محنت کشوں کے حقوق گلگت بلتستان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔