وزیراعظم سے چینی سفیر کی ملاقات، ’پاکستان کے اصولی موقف کو سمجھنے پر چین کا شکریہ‘
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہبازشریف سے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ کی آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال میں پاکستان کی مضبوط اور ثابت قدم حمایت پر چین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے 22 اپریل 2025 سے ہندوستان کے اقدامات کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کو سمجھنے پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ بالخصوص وزیر اعظم نے اس واقعے کی قابل اعتماد اور شفاف بین الاقوامی تحقیقات کے لیے اپنی مخلصانہ پیشکش کی توثیق پر چین کا شکریہ ادا کیا۔
دبئی پاورلفٹنگ اینڈ باڈی بلڈنگ انٹرنیشنل چیمپئن شپ: پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کے طور پر، پاکستان نے 90,000 سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جب کہ ملک کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کو ایک محفوظ مقام بنانے کی کوششوں میں 152 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے جارحانہ اقدامات پاکستان کی توجہ اس کی آئی ایس کے پی، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف جاری انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے ہٹا سکتے ہیں جو افغانستان کے اندر سے کام کر رہے تھے۔
ایف سی انڈرپاس کے قریب تیز رفتار رکشہ اُلٹنے سے5افراد زخمی
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کا پانی کو جارحیت کیلئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے خاص طور پر کیونکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدے سے انحراف کا حق نہیں ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جموں و کشمیر تنازعہ کا پرامن حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔
چینی سفیر نے پاکستان کے نقطہ نظر اور حقائق پر تفصیلی طور پر روشنی ڈالنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ چین جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے حوالے سے پاکستان اور چین کی مشترکہ خواہش کے حصول کے لیے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کرے گا۔
اٹلی:3 پاکستانی انسانی سمگلنگ کے الزامات میں گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شکریہ ادا کیا پر چین کا کا شکریہ
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔