پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایسا کیا ہوا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آگئی؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی میں امریکی مداخلت کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچیبج میں کاروبار کا اختتام زبردست تیزی پر ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 2787 پوائنٹس بڑھ کر ایک لاکھ 14 ہزار 113 پوائنٹس کی حد پر بند ہوا، 100 انڈیکس دوران ٹریڈنگ 3200 سے زائد پوائنٹس پلس ہوکر 2 نفسیاتی حدیں عبور کرگیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرمایہ کاروں کو اربوں روپوں کے خسارے کا سامنا، کیا اسٹاک مارکیٹ سنبھل پائے گی؟
انڈیکس کی یومیہ بلند سطح 1 لاکھ14 ہزار 5 سو اور یومیہ کم ترین سطح 1 لاکھ 12 ہزار 8سو پوائنٹس رہی، اسٹاک ایکسچینج میں 37کروڑ مالیت شیئرز کا کاروباری حجم 23 ارب روپے سے زائد رہا۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی بڑھنے کی رفتار میں کمی سے آئندہ انٹریسٹ ریٹ میں کمی کے امکانات اسٹاک ٹریڈنگ کو تیز کرگئے۔
ماہر اسٹاک مارکیٹ شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے اور بات کی جائے گزشتہ برس کی تو 84 فیصد ریٹرن دیا، اپریل کے مہینے میں بھی اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی بہت اچھی رہی اور 1 لاکھ 20 ہزار کا ریکارڈ بھی بنایا اسکے بعد پلوامہ اٹیک ہوا جس کے بعد مارکیٹ نیچے آئی۔
مزید پڑھیے: سرمایہ کاروں کو اربوں روپوں کے خسارے کا سامنا، کیا اسٹاک مارکیٹ سنبھل پائے گی؟
شہریار بٹ کا مزید کہنا ہے کہ اس صورت حال میں جب پاکستان بھارت جنگ کے لیے آمنے سامنے ہوں بھارت کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ ہو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے جنگ ہو بھی سکتی ہے نہیں بھی ہو سکتی لیکن اس کے اثرات اسٹاک مارکیٹ تک پہنچ رہے ہیں اور پاکستان جیسا ملک جو اپنی معیشت کی ریکوری کے فیز سے گزر رہا ہے گزشتہ برس ہم ڈیفالٹ کی طرف جا رہے تھے اور اس سال حالت بہتری کی جانب گامزن ہے ایسے میں ہماری مارکیٹ سے 4 ہزار کے قریب پوائنٹس نکل گئے ہیں آج 2700 پوائنٹس ملے ہیں لیکن مارکیٹ شدید دباؤ میں ہے کیوں کہ ہم آئی ایم ایف پراگرام سے جڑے ہیں اور ہماری معیشت کمزور ہے اب جنگ پر منحصر ہے اگر ہوتی ہے یا نہیں یا پھر حالات کشیدہ ہوتے ہیں تو اسٹاک مارکیٹ پر اثرات پڑیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کا مثبت آغاز، 100انڈیکس میں 1100 پوائنٹس کا اضافہ
شہریار بٹ کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان مانیٹری پالیسی کا اعلان کرنے جا رہا ہے، امید ہے آئی ایم ایف سے ہمیں مزید مالی تعاون بھی مل جائے گا جبکہ ماحولیات کے حوالے سے بھی امید ہے کہ پاکستان کو کچھ فنڈز مل جائیں اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں استحکام دکھائی دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک رخ یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قوتوں کی جانب سے پاکستان اور بھارت سے رابطہ کیا گیا ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹاک میں تیزی پاک بھارت کشیدگی پاکستان اسٹاک مارکیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹاک میں تیزی پاک بھارت کشیدگی پاکستان اسٹاک مارکیٹ پاکستان اسٹاک اسٹاک مارکیٹ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔