بھارتی صحافی نے مودی کے جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
بھارتی صحافی نے مودی کے جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 2 May, 2025 سب نیوز
نئی دہلی (سب نیوز)بھارت کی معروف رپورٹر ارچنا تیواری نے اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعے بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائے گئے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کشمیر کے دورے کے دوران انہوں نے ایک مقامی کشمیری ڈرائیور سے کی گئی گفتگو ریکارڈ کی، جس میں کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔
بھارتی صحافی نے کشمیری ڈرائیور سے سوال کیا کہ 6دن کے شادی شدہ جوڑے پرحملہ کیا جھوٹ تھا؟ جس پر ڈرائیور نے جواب دیا کہ بھارتی چینلزجھوٹاپروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف ہیں، ڈرائیور نے انکشاف کیا کہ یہ سب جھوٹ ہے کیونکہ لڑکا زندہ ہے، اس نے کہا کہ بھارت میں سب جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔صحافی کے اس سوال پر کہ کیا بیوہ کا بیان اوربچے کی ویڈیو جھوٹ ہے؟ تو کشمیر ڈرائیور نے جواب دیا کہ ہاں یہ سب ایک سیاسی کھیل ہے، 10کلومیٹردورسیکوئی مذہب کیسے پوچھ سکتا ہے۔
اس نے کہا کہ کشمیریوں کا قتل عام ترک نہ ہوا توعوام بھی ہتھیار اٹھالے گئی، بھارتی رپورٹر ارچنا تیواری نے پوچھا یہ باتیں سب مودی کا ڈرامہ ہیں؟اس پر اس نے کہا کہ پورے بھارت نے کشمیر کو داپر لگا دیا، پاکستان تو جنگ کے لیے تیار ہے، جنگ چھڑتے ہی بھاگنے والوں میں سب سے آگے مودی اسکی ٹیم ہوگی۔کشمیر ڈرائیور نے مزید کہا کہ بھارتی جان جائیں گے مودی سرکار پر بھروسہ کر کے غلطی کی ہے۔
ایک سیاسی تجزیہ کار کے مطابق بھارتی میڈیا کا بیانیہ زمینی حقائق سے یکسر مختلف ہے، ارچنا تیواری کا سچ ثبوت ہے۔سیاسی تجریہ کار نے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن صرف ایک پروپیگنڈا ہے، کشمیری ڈرائیور کی گفتگو مودی سرکار کے ظلم و ستم کی عکاسی کرتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآل پاکستان مینارٹی موومنٹ کی سیکٹر ایچ 9 رمشا کالونی اسلام آباد میں عوامی مزدور ریلی اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9میں تنظیم کے دفتر کا افتتاح کیا جائے گا،چیئرمین آل پاکستان منارٹیز موومنٹ ندیم بھٹی ملکی معیشت کی ترقی میں اوورسیز پاکستانیزکی شراکت داری ناگزیر ہے، عاطف اکرام شیخ پاکستانی میڈیا بیانیے کی جنگ جیت گیا، خوفزدہ بھارت نے آئی ایس پی آرکا یوٹیوب چینل بلاک کردیا پہلگام واقعے پر را کی خفیہ دستاویز لیک، بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ برطرف پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر سلامتی کونسل کاہنگامی اجلاس بلانے کا عندیہ پاک بھارت کشیدگی، قومی اسمبلی کا اجلاس 5 مئی کو طلب کرنے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔