سٹی42:  پی ٹی آئی  کے کارکنوں کے 26 نومبر  2024 کو اسلام آباد میں گھیراؤ جلاؤ اور تشدد میں ملوث  82  کارکنوں کو اعتراف جرم کے بعد سزا ہو گئی۔

پی ٹی آئی کے بانی کی ہدایت پر  26 نومبر  2024 کو اسلام آباد پر زبردستی دھاوا بول کر پر تشدد کارروائیاں کرنے، گھیراؤ جلاؤ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں مولث  82 ملزموں نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں بیان جمع کرایا کہ پی ٹی آئی قیادت نے انہیں اکسایا تھا، ان کارکنوں نے اپنی درخواستوں میں کہا، ہم غریب مزدور ہیں ہم سے رعایت برتی جائے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر احتجاج کے کیس کے 82 ملزمان کے اعتراف جرم کر لینے کے بعد  عدالت نے ان کے ساتھ رعایت برتی اور انہیں سنگین جرائم کی کم سے کم سزا سنائی۔

پرائیویٹ ہسپتال ،لیب،مارکیز سمیت11کیٹگریزکوٹیکس نیٹ میں شامل کرنیکافیصلہ

پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف 24 اور 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران غیر قانونی اقدامات اور سنگین نوعیت کے جرائم  پر درج 24 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں ہوئی جس دوران متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ 

سماعت کے دوران 1609 ملزمان میں سے عدالت پیش ہونے والے 560 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔  26 نومبر کے احتجاج میں گرفتار 120 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کی ضمانتیں منظور  کی گئی تھیں۔  بعض کارکن اب بھی حراست مین تھے۔
 
عدالت میں پیش کیے گئے 82 ملزموں نے جج کے سامنے اعتراف جرم کیا اور  بیان حلفی جمع کرایا کہ پی ٹی آئی قیادت نے انہیں احتجاج کے لیے اکسایا تھا۔

فالس فلیگ کا بھانڈا پھوڑنے پر بھارت کی بوکھلاہٹ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ پر سائبر حملے

ملزموں نے عدالت  میں بیان دیا کہ مقامی اور مرکزی قیادت نے پرتشدد احتجاج کی ترغیب دی تھی، ہم غریب مزدور ہیں، ہمارے ساتھ رعایت برتی جائے۔

مانہوں نے عدالت میں یہ تحریری یقین دہانی بھی کروائی کہ وہ آئندہ کسی  غیر قانونی سرگرمی اور توڑ پھوڑ کی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں عدالت نے اعتراف جرم کرنے والے82 ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق دستیاب رعایت برتتے ہوئے انہیں صرف  4،4 ماہ قید اور 15،15 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

الیکٹرک بسوں کی درآمد کے ٹینڈر منسوخی کی وجہ سامنے آگئی

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اعتراف جرم عدالت میں پی ٹی آئی میں پی

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک