تشدد، توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ مقدمات میں پی ٹی آئی کے 82 کارکنوں کو سزا ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
سٹی42: پی ٹی آئی کے کارکنوں کے 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد میں گھیراؤ جلاؤ اور تشدد میں ملوث 82 کارکنوں کو اعتراف جرم کے بعد سزا ہو گئی۔
پی ٹی آئی کے بانی کی ہدایت پر 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد پر زبردستی دھاوا بول کر پر تشدد کارروائیاں کرنے، گھیراؤ جلاؤ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں مولث 82 ملزموں نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں بیان جمع کرایا کہ پی ٹی آئی قیادت نے انہیں اکسایا تھا، ان کارکنوں نے اپنی درخواستوں میں کہا، ہم غریب مزدور ہیں ہم سے رعایت برتی جائے۔
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی کے 26 نومبر احتجاج کے کیس کے 82 ملزمان کے اعتراف جرم کر لینے کے بعد عدالت نے ان کے ساتھ رعایت برتی اور انہیں سنگین جرائم کی کم سے کم سزا سنائی۔
پرائیویٹ ہسپتال ،لیب،مارکیز سمیت11کیٹگریزکوٹیکس نیٹ میں شامل کرنیکافیصلہ
پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف 24 اور 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران غیر قانونی اقدامات اور سنگین نوعیت کے جرائم پر درج 24 مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں ہوئی جس دوران متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران 1609 ملزمان میں سے عدالت پیش ہونے والے 560 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ 26 نومبر کے احتجاج میں گرفتار 120 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کی ضمانتیں منظور کی گئی تھیں۔ بعض کارکن اب بھی حراست مین تھے۔
عدالت میں پیش کیے گئے 82 ملزموں نے جج کے سامنے اعتراف جرم کیا اور بیان حلفی جمع کرایا کہ پی ٹی آئی قیادت نے انہیں احتجاج کے لیے اکسایا تھا۔
فالس فلیگ کا بھانڈا پھوڑنے پر بھارت کی بوکھلاہٹ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ پر سائبر حملے
ملزموں نے عدالت میں بیان دیا کہ مقامی اور مرکزی قیادت نے پرتشدد احتجاج کی ترغیب دی تھی، ہم غریب مزدور ہیں، ہمارے ساتھ رعایت برتی جائے۔
مانہوں نے عدالت میں یہ تحریری یقین دہانی بھی کروائی کہ وہ آئندہ کسی غیر قانونی سرگرمی اور توڑ پھوڑ کی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے۔
بعد ازاں عدالت نے اعتراف جرم کرنے والے82 ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق دستیاب رعایت برتتے ہوئے انہیں صرف 4،4 ماہ قید اور 15،15 ہزارروپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
الیکٹرک بسوں کی درآمد کے ٹینڈر منسوخی کی وجہ سامنے آگئی
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اعتراف جرم عدالت میں پی ٹی آئی میں پی
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔