26 نومبر احتجاج، 82 ملزمان کا اعتراف جرم، 4 ماہ قید اور 15 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
26 نومبر کے احتجاج کے الزام میں گرفتار 82 ملزمان نے اعتراف جرم کرلیا، ہر ایک کو 4 ماہ قید اور 15 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنادی گئی۔
راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے اسلام آباد میں 26 نومبر کے احتجاج کے الزام میں گرفتار 82 افراد نے عدالت کے سامنے اعتراف جرم کرلیا۔ عدالت نے اعتراف جرم کرنے والے 82 مجرمان کو 4،4 ماہ قید اور 15، پندرہ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
ملزمان نے عدالت میں بیان دیا کہ مرکزی اور مقامی قیادت نے پرتشدد احتجاج کی ترغیب دی تھی۔ ہم غریب مزدور ہیں۔ ہم سے رعایت برتی جائے۔ سزا پانے والوں نے عدالت میں تحریری بیان دیا کہ وہ آئیندہ کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے 26 نومبر کا احتجاج: پی ٹی آئی کے 86 کارکنوں کی ضمانت کی درخواستیں خارج
واضح رہے کہ گزشتہ برس 26 نومبر کو اسلام آباد میں عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے میں شریک پی ٹی آئی کے کارکنوں پر مبینہ طور پر تشدد آمیز کارروائیوں کے الزام میں دارالحکومت کے تھانہ ترنول اور کوہسار میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعتراف جرم
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ