ڈاکٹر غلام علی کی چھٹی، وزارت فوڈ سیکیورٹی نے نئے چیئرمین پی اے آر سی کی تقرری کا عمل شروع کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 3 May, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (ارمان یوسف) ڈاکٹر غلام علی کی چھٹی، وزارت فوڈ سیکیورٹی نے نئے چیئرمین پی اے آر سی کی تقرری کا عمل شروع کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق عدالتی احکامات اور وزیراعظم کے ہٹانے کے باوجود چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر غلام علی عہدہ چھوڑنے کو تیار نہیں اور اپنے غیر قانونی اقدامات پر پبلک اکائونٹس کمیٹی اور عدالتوں میں اپنے خلاف کیسز کا سامنا کرنے کے بجائے 3 ماہ کی چھٹی پر جا چکے ہیں تاہم وزارت فوڈ سیکیورٹی نے اب چئیرمین پی اے آر سی کی سیٹ خالی قرار دیدی ہے اور نئے چیئرمین کی تقرری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق نئے چیئرمین پی اے آر سی کی تقرری کیلئے ڈرافٹ ایڈورٹائزمنٹ کی منظوری دیدی گئی ہے جبکہ جلد سے جلد تمام قومی اردو و انگریزی اخبارات میں اس حوالے سے اشتہار جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں پی اے آر سی کو نیشنل جاب پورٹل کیلئے فوکل پرسن مقرر کرنے اور اور نئے چیئرمین کی تقرری کا اشتہار ادارے اور این جے پی کے ویب پورٹل پر بھی اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ چئیرمن پی اے آر سی ڈاکٹر غلام محمد علی کی تقرری 2022 میں 2 سال کیلئے کی گئی تھی تاہم ایک نوٹیفکیشن کے سہارے انہوں نے مزید ایک سال عہدہ چھوڑنے سے انکار کیا تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ان کی تقرری کو خلاف ضابطہ اور خلاف قانون قرار دیتے ہوئے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے اور نیا چئیرمن تعینات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ڈاکٹر غلام علی کو غیر قانونی بھرتیوں پر پبلک اکائونٹس کمیٹی نے بھی 6 مئی کو طلب کر رکھا ہے جبکہ انکی عدم پیشی پر کیس نیب کو بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔

پی اے سی اجلاس میں آڈٹ حکام نے بھرتیوں میں قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان بھرتیوں میں میرٹ کی خلاف ورزی کی گئی جبکہ رکن کمیٹی عامر ڈوگر نے بھی یہ انکشاف کیا تھا کہ یہ بھرتی کئیے گئے بیشتر افراد چئیرمن پی اے آر سی غلام علی اور ادارے کے اعلی افسران کے رشتے دار ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت پر جنگی جنون سوار، ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے اقدام کریں: پاکستان پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آزادی صحافت کا دن منایا جارہا ہے پاکستان کی سالمیت کے دفاع کیلئے چین ہرطرح کی مدد کرے گا، وکٹر گا کا بھارتی اینکر کو جواب سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور کرلی پاکستان ریلوے کا بڑا فیصلہ ، عام آدمی بھی ٹرین میں موجود لگژری سیلون بک کراسکیں گے زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ عام انتخابات دھاندلی کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نئے چیئرمین پی اے آر سی کی تقرری وزارت فوڈ سیکیورٹی نے کی تقرری کا عمل ڈاکٹر غلام علی شروع کر دیا کی چھٹی علی کی کی گئی

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت