Daily Ausaf:
2026-06-02@22:46:48 GMT

پانی پر ایک بڑی جنگ ہو سکتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT

پانی ہمارے لئے کتنی اہمیت رکھتا ہے-یہ ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔اس کو بچانا،اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری اور اہم فرائض میں سے ایک ہے۔زندگی کی بقا کے لیے آکسیجن کے بعد انسان کی سب سے بڑی ضرورت پانی ہےپانی کو لے کر پاکستان اور بھارت کے مابین بھی ان دونوں شدید تنازع پیدا ہو گیا ہےجس نے خطے کی صورت حال بگاڑ دی ہے اور ٹینشن پیدا کر دی ہے۔دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل آ کھڑی ہوئی ہیں۔حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے وقوعہ کا سارا الزام پاکستان پر لگا دیا ہے جبکہ وقوعہ کے فورا بعد پہلگام تھانے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں کسی تحقیق اور تفتیش کے بغیر واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کی بات کی گئی ہے۔وقوعہ کے اسی روز مودی سرکار نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بھی بات کی اور کہا کہ بھارت سے پاکستان کو جانے والے دریا کے پانی کو روک دیاجائے گا۔جس کے جواب میں پاکستان نے بھی وارننگ دی کہ ہمارے پانی کو روکاگیا تو اسے ہم اعلان جنگ تصور کریں گےکیونکہ پانی ہماری لائف لائن ہے پانی روکنے کے عمل کو ہم اپنے خلاف اعلان جنگ تصور کریں گے۔بھارت کو اس کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔ان دھمکیوں اور وارننگ کے بعد صورت حال اب کچھ اور بھی زیادہ کشیدہ ہو گئی ہے۔دونوں جانب کی فوجیں جنگ کے لیےمستعد اور تیار کھڑی ہیں۔ سرحدوں پر افواج کی بہت غیر معمولی نقل و حمل نوٹ کی گئی ہے۔فوجی مبصرین کا کہنا ہے کسی بھی فریق کی معمولی سی غلطی خطےکوجنگ میں دھکیل سکتی ہے۔جنگ ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے۔دنیا جو پہلے ہی معاشی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے۔مزید اقتصادی و معاشی بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔پانی کسی بھی ملک اور وہاں کے باسیوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔اس کا اندازہ اسی بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ پانی کے مسئلے پر دو ایٹمی قوتیں جنگ کے لئے تیار ہیں۔اب ہم بات کرتے ہیں سندھ طاس معاہدے کی،بھارت کی جانب سے جس کی معطلی کے بعد یہ سنگین صورت حال پیدا ہوئی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 19 ستمبر 1960ء کو دریائے سندھ اور دیگر دریائوں کے پانی کی منصفانہ تقسیم اور حصہ داری کےحوالے سےایک معاہدہ طےپایاجسے سندھ طاس معاہدے کانام دیاگیا۔اس پس منظر میں یہ جاننابھی ضروری ہے کہ 1909 میں برطانوی حکام نے زیریں سندھ طاس کے منصوبے پر غور کیا جس کے مطابق ایک دریا کے پانی کو دوسرے دریا تک پہنچایا جانا تھا۔دریائے جہلم کو ایک نہر کے ذریعے چناب سے ملا دیا گیا جبکہ پنجند اور معاون دریائوں پر بہت سے بند اور بیراج بنائے گئے۔جس کا مقصد سیلاب کے دنوں میں پانی کا ذخیرہ کرنا تھا۔اس طرح جہاں سیلابوں پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا تھا وہاں ان ذخیروں میں جمع شدہ پانی کو سردیوں کے خشک موسم میں استعمال کیا جا سکتا تھا۔1932 میں سکھر کے مقام پر دریائے سندھ پر تعمیر کیا گیا پہلا بیراج کھول دیا گیا اور نیا بیراج کالا باغ کے مقام پر تعمیر کیا گیا۔برطانوی انجینئرز نے آبپاشی نظام کے جو فارمولے تشکیل دئیے۔وہ دنیا میں ہر جگہ نہروں کی تعمیر اور ان کو چلانے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔قریبا پچاس سال تک پانی کے مسئلے کو طاقتور دریائوں کو قابو میں رکھنے اور لگام ڈالنے کا کام ایک وحدت کے طور پر انجام دیا جاتا رہا مگر 1947 کی تقسیم کے بعد سب کچھ بدل گیا۔سر سیرل کلف اس کمیشن کا چیئرمین تھا جسے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔برطانیہ کو اپنے اس نہری نظام پر فخر تھا اور قدرتی طور پر اس کی خواہش تھی کہ پانی کا یہ نظام کامیابی سے چلتا رہے۔اس لیئے سر سیرل کلف نے تقسیم کے وقت نہروں اور دریائوں کو کنٹرول کرنے کے اس نظام کی اہمیت پوری طرح دونوں فریقوں یعنی پاکستان اور ہندوستان پر واضح کر دی اور برطانوی خواہش کے مطابق تجویز پیش کی کہ دونوں ملک ایک معاہدہ کر لیں کہ وہ اس سارے نظام کو ایک اکائی کی طرح چلائیں گےمگر دونوں فریق ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور بڑی سختی سے دونوں نے یہ تجویز رد کر دی۔پاکستان جانتا تھا اس طرح بھارت کے رحم و کرم پر رہے گا۔نہرو نے بڑے سیدھے الفاظ میں کہہ بھی دیا کہ بھارت کے دریا بھارت کا مسئلہ ہے کیونکہ اس کو امید تھی کہ کشمیر میں مسلم اکثریت کے باوجود وہاں کا ہندو راجا بھارت کے ساتھ شامل ہونا پسند کرے گا۔شاید اندرون خانہ ان کے درمیان کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا۔تقسیم کے وقت ظاہری طور پر پاکستان فائدے میں نظر آتا تھا کہ پنجاب کی 23 مستقل نہروں میں سے 21 پاکستان کےقبضے میں آ گئیں۔پنجند کے پانچوں دریا مغرب میں پاکستان پہنچنے سے پہلے اس علاقے سے بہتے ہوئے آتے تھےجس پر اب بھارت قابض ہو چکا تھا۔پانیوں کی یہ ایک لمبی کہانی ہے۔بھارت چاہتا ہے پاکستان کا پانی بند کر کیاسے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرے۔ہم کبھی سنتے تھے کہ دنیا میں اب جنگیں پانی پر ہوا کریں گی اور یہ وقت ہماری زندگی میں آ گیا ہے۔پاکستان کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ اپنے آبی وسائل پر کوئی قدغن برداشت نہیں کرے گا۔سچ ہے بھارت باز نہ آیا تو پانی پر ایک بڑی اور ہولناک جنگ چھڑ سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بھارت کے پانی کو سکتی ہے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف

ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔

لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔

آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی