آزاد کشمیر: بڑھتی ہوئی کشیدگی، بھارتی جارحیت کے امکانات کے باعث ہنگامی اقدامات کا جائزہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 May, 2025 سب نیوز

مظفرآباد (آئی پی ایس )آزاد جموں و کشمیر کی اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے اعلی سطح کے اجلاس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار بھارتی جارحیت کے امکانات کے باعث تیاریوں کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکریٹری خوشحال خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اہم سرکاری محکموں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں جنگ جیسی پیشرفت کی صورت میں محکموں اور اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کا جائزہ لینے پر توجہ مرکوز کی گئی

کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف احتیاطی تدابیر پر اتفاق کیا گیا۔چیف سیکریٹری نے تمام سرکاری محکموں اور اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ متعلقہ مشینری، آلات اور اہلکار فوری تعیناتی کے لیے تیار ہوں۔محکمہ خوراک، جو عام طور پر ایل او سی سمیت دور دراز علاقوں میں خوراک کی سپلائی کا ایک ماہ کا ذخیرہ رکھتا ہے، کو ہدایت کی گئی کہ وہ اسٹاک کی مقدار کو دوگنا کرے۔ محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی کہ وہ ادویات اور طبی عملے کی بلاتعطل دستیابی کو یقینی بنائے، جبکہ تمام ایمبولینسز کو فعال حالت میں رکھا جائے۔ایس ڈی ایم اے کو ہنگامی ردعمل کو مربوط کرنے کے لیے فوکل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا۔ اسے ضلعی سطح کے ہنگامی منصوبوں کے مطابق غیر خوراکی اور خراب نہ ہونے والی اشیا کی دستیابی کو یقینی بنانے کا کام سونپا گیا ہے

۔اجلاس میں تعلیمی اداروں کو بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرنے کے امکان پر بھی بات ہوئی۔ طویل تنا کی صورت میں طلبہ کے لیے تعلیمی خلل کو کم کرنے کی حکمت عملیوں پر غور کیا گیا۔محکمہ ہائی ویز کو ہدایت کی گئی کہ ناران (خیبر پختونخوا میں) کو نوری ٹاپ کے راستے وادی نیلم کے علاقے سرگن سے ملانے والی سڑک کو ہنگامی نقل و حرکت اور نقل مکانی کے لیے کھلا رکھا جائے۔محکمہ صحت، تعلیم، سول ڈیفنس، کمیونیکیشن اینڈ ورکس، بجلی، ایس ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کو ضروری خدمات قرار دیا گیا۔ ان محکموں میں ملازمین کے لیے پہلے دی گئی تمام چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کردی گئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے تمام 13 حلقوں میں تقریبا 4 لاکھ 27 ہزار افراد نیلم سے لے کر جنوبی بھمبر ضلع تک ایل او سی کے پانچ کلومیٹر کے اندر رہتے ہیں اور وہ اپنی لچک کے لیے مشہور ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے 3 ہزار سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے 3 ہزار سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا گیا بھارتی مطالبہ مسترد ؛پاکستان کو 2.

3 ارب ڈالر پیکیج ملنے کا امکان ٹرمپ نے سعودی عرب کو ساڑھے تین ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دیدی پاکستان کا پانی موڑنے کی کوشش کی گئی تو پنجاب اور کشمیر مکمل ڈوب جائیں گے، سابق بھارتی وزیر یونان کا پہلگام واقعہ کی شفاف تحقیقات کیلئے پاکستانی تجویز کا خیرمقدم پہلگام واقعہ: بھارت نے پاکستان سے درآمدات پر پابندی لگادی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اجلاس میں کا جائزہ ہدایت کی کی گئی کے لیے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع