سیالکوٹ: بچے گھروں کے تالے توڑ کر وارداتیں کرنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سیالکوٹ (نیوز ڈیسک) تھا نہ سول لائن کے مختلف علاقوں میں ننھے منے گینگ متحرک، پولیس بے بس، وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا۔ تھانہ سول کے علاقوں میں کم سن گینگ بند گھروں کی ریکی کے بعد گھروں میں وارداتیں کرنے لگے تفصیلات کے مطابق گینگ دلیری سے بند گھر کے تالے توڑ کے گھر میں داخل ہونے لگے دو ننھے منے بچوں کی گھر میں داخل ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ، جس میں بچوں کو گھر کے تالے اور گھر کے اندر لگے کیمرے توڑتے دیکھا جا سکتا ہے، تھانہ سول لائن پولیس نے کاغذی کاروائی کیلئے مقدمہ درج کر لیا۔ نشاندہی اور فوٹیج منظر عام پر آنے کے باوجود پولیس ملزموں کو گرفتار کرنے میں نا کام ہے۔ چند روز قبل کمسن گینگ ندیم سلیم شہری کی رہائش گاہ واقع کشمیر بوٹا روڈ چیمہ سٹریٹ میں گھر کے تالے توڑ کر قیمتی سامان لے اڑے جسکا مقدمہ درج ہو چکا۔ شہریوں نے انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور، ریجنل پولیس آفیسر حبیب حفیظ چیمہ ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فیصل شہزاد سے مطالبہ کیا ہے کہ کمسن گینگ کی گرفتاری کیلئے ٹیم تشکیل دی جائے تا کہ ملزموں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک جائے۔
مزیدپڑھیں:پوری امید ہے جنگ نہیں ہوگی، اگر ہوئی تو مردوں کی ہوگی: شیخ رشید
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گھر کے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔