پاکستان پر حملہ کیا تو بھارت کی 7 ریاستوں پر قبضہ کرلیں گے؛ بنگلادیشی میجر جنرل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بنگلادیش کے سابق آرمی آفیسر فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان پر حملہ ہوا تو ہم بھارت کی 7 شمال مشرقی ریاستوں پر قبضہ کرلیں گے۔
بھارت کو یہ دھمکی بنگلا دیش کے سابق میجر جنرل فضل الرحمان نے بنگالی زبان میں کی کئی گئی اپنی ایک پوسٹ میں دی۔
خیال رہے کہ سابق میجر جنرل فضل الرحمان بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے قریبی ساتھی اور نیشنل انڈیپنڈنٹ انویسٹی گیشن کمیشن کے سربراہ ہیں۔
سابق میجر جنرل نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ایسی صورت حال میں چین کے ساتھ مشترکہ فوجی تعاون کی بات چیت شروع کرنا ضروری ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات تاریخ کے بدترین نازک دور میں ہیں۔
قبل ازیں مارچ میں چین کے دورے پر بنگلادیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے بھی بھارت کو باور کرایا تھا کہ بھارت کے مشرقی حصے کی 7 ریاستیں سمندر سے محروم ہیں اور بنگلا دیش اس علاقے کا واحد ‘سمندری نگہبان’ ہے۔
اس بیان پر بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا اور بھارتی وزیر خارجہ نے ایک عالمی اجلاس میں کہا تھا کہ ہمارا شمال مشرقی علاقہ رابطے کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں سڑکوں، ریلوے، آبی گزرگاہوں اور پائپ لائنز کا جال بچھایا جا رہا ہے۔
بنگلادیش کے عبوری سربراہ محمد یونس کے اس بیان کے چند دن بعد بھارت نے بنگلا دیشی کارگو کی بھارتی بندرگاہوں سے ٹرانس شپمنٹ کی پانچ سالہ سہولت ختم کر دی تھی۔
خیال رہے کہ طلبا تحریک کے نتیجے میں حکومت کا دھڑن تختہ ہونے پر شیخ حسینہ واجد کو ملک سے فرار ہونا پڑا تھا اور بھارت نے ہی انھیں پناہ دے رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیش کے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔